کتنوں کو دستیاب ہے کتنوں کا رزق ہے

کتنوں کو دستیاب ہے کتنوں کا رزق ہے
اک چاند ہے جو ہجر کی راتوں کا رزق ہے


فاقوں سے مر نہ جائیں انہیں اب دکھائی دے
یہ جان لے کہ تو مری آنکھوں کا رزق ہے


اس نبض کی بقا کو ضروری ہے تیرا لمس
خوشبو ترے وجود کی سانسوں کا رزق ہے


دیکھے گا یہ ہجوم مجھے کس نگاہ سے
یہ خوف اپنے آپ میں نسلوں کا رزق ہے


وہ مخملی سے خواب تو اب خواب ہو گئے
لے دے کے اضطراب ہی غزلوں کا رزق ہے