جہان زادی کا اسٹیٹس
زمانہ کتنا بدل گیا ہے مقام رشتوں کا مٹ رہا ہے کہیں محبت کا روپ دھارے کہیں سلگتے یہ نفرتوں سے کہیں پہ آنکھوں میں ریت بن کر چبھن کی صورت رلا رہے ہیں کہیں یہ برقی پیام بن کر ہزار میلوں پہ چھائی دوری کے بادلوں کو ہٹا رہے ہیں دلوں کی دھڑکن بڑھا رہے ہیں روایتوں کو بدل رہے ہیں وفا کے ...