دھند کے پار
دھند کے پرے اک دن روشنی کے ہالے میں وہ مجھے نظر آیا جیسے دیوتا کوئی منتظر ہو داسی کا میں نے روبرو ہو کر اس سے التجا کی تھی دو گے روشنی اپنی مستعار لینی ہے ہر طرف اندھیرا ہے میزبانی کرنی ہے کچھ خراب حالوں کی روح کی کثافت کا دل پہ بوجھ ہے جن کے چند زخم ایسے ہیں جو کہ بھر نہ پائیں گے گر ...