Maimoona Abbas Khan

میمونہ عباس خان

میمونہ عباس خان کے تمام مواد

11 نظم (Nazm)

    دھند کے پار

    دھند کے پرے اک دن روشنی کے ہالے میں وہ مجھے نظر آیا جیسے دیوتا کوئی منتظر ہو داسی کا میں نے روبرو ہو کر اس سے التجا کی تھی دو گے روشنی اپنی مستعار لینی ہے ہر طرف اندھیرا ہے میزبانی کرنی ہے کچھ خراب حالوں کی روح کی کثافت کا دل پہ بوجھ ہے جن کے چند زخم ایسے ہیں جو کہ بھر نہ پائیں گے گر ...

    مزید پڑھیے

    وقت

    تمہارے اور میرے فیصلوں کے درمیاں یہ وقت ہے جس نے طنابیں کھینچ کر اپنی ہماری بے بسی دو چند کر دی ہے تمہارے پاس کم ہے اور میرے پاس بھی اتنا نہیں پھر اس پہ اتنی الجھنیں تحفے میں دی ہیں زندگی نے جنہیں سلجھاتے سلجھاتے تمہارے پاس آتے راستے دھندلانے لگ جائیں

    مزید پڑھیے

    ہوا کے دوش پہ

    وہ ڈھیر کانچ کا تھا کسی نے راکھ سمجھ کر جسے ٹٹولا تھا عجیب رنگ تھے رقصاں نگاہ کے آگے ہتھیلی رسنے لگی تو گمان سا گزرا کہیں یہ خون کے چھینٹوں کی سرخیاں تو نہیں مگر وہ درد کہاں ہے جو سکھ نگلتا ہے جو جسم و جان میں اترا ہے اب تھکن بن کر کہیں سے آہ و بکا کی صدائیں آتی ہیں یہ نیم اندھیرا ...

    مزید پڑھیے

    وحشت

    یہی دل تھا کبھی جو خون کی ترسیل پر مامور رہتا تھا دھڑکتا تو نوید زندگی لاتا اب ایسا ہے رگوں کا جال تو ویسے ہی پھیلا ہے مرے اندر مگر دل خون کے بدلے فراوانی سے بہتے درد کی گردش سے جو بے حال رہتا ہے تو دھڑکن ٹیس بن کر سینے میں اک وحشیانہ رقص کرتی ہے انہی دو انتہاؤں پر کھڑا یہ جسم و جاں ...

    مزید پڑھیے

    سوچ رہی ہوں

    گونگی ہوتی ہوئی خاموشی سناٹے کی دہلیز پکڑ کر جانے کب تک جمی رہے گی میں وہ لفظ ہی بھول آئی ہوں رستے میں ہی گرا آئی ہوں جو تم سے ملنے آئے تھے جانتے ہو تم لفظ مری دھڑکن تھے اس پل سینے میں اک حشر بپا تھا سرخی کا پیراہن اوڑھے میرے سجیلے لفظ وہ سارے سپنوں کے رنگین محل میں رہنے کو بے تاب ...

    مزید پڑھیے

تمام