Maimoona Abbas Khan

میمونہ عباس خان

میمونہ عباس خان کی نظم

    دھند کے پار

    دھند کے پرے اک دن روشنی کے ہالے میں وہ مجھے نظر آیا جیسے دیوتا کوئی منتظر ہو داسی کا میں نے روبرو ہو کر اس سے التجا کی تھی دو گے روشنی اپنی مستعار لینی ہے ہر طرف اندھیرا ہے میزبانی کرنی ہے کچھ خراب حالوں کی روح کی کثافت کا دل پہ بوجھ ہے جن کے چند زخم ایسے ہیں جو کہ بھر نہ پائیں گے گر ...

    مزید پڑھیے

    وقت

    تمہارے اور میرے فیصلوں کے درمیاں یہ وقت ہے جس نے طنابیں کھینچ کر اپنی ہماری بے بسی دو چند کر دی ہے تمہارے پاس کم ہے اور میرے پاس بھی اتنا نہیں پھر اس پہ اتنی الجھنیں تحفے میں دی ہیں زندگی نے جنہیں سلجھاتے سلجھاتے تمہارے پاس آتے راستے دھندلانے لگ جائیں

    مزید پڑھیے

    ہوا کے دوش پہ

    وہ ڈھیر کانچ کا تھا کسی نے راکھ سمجھ کر جسے ٹٹولا تھا عجیب رنگ تھے رقصاں نگاہ کے آگے ہتھیلی رسنے لگی تو گمان سا گزرا کہیں یہ خون کے چھینٹوں کی سرخیاں تو نہیں مگر وہ درد کہاں ہے جو سکھ نگلتا ہے جو جسم و جان میں اترا ہے اب تھکن بن کر کہیں سے آہ و بکا کی صدائیں آتی ہیں یہ نیم اندھیرا ...

    مزید پڑھیے

    وحشت

    یہی دل تھا کبھی جو خون کی ترسیل پر مامور رہتا تھا دھڑکتا تو نوید زندگی لاتا اب ایسا ہے رگوں کا جال تو ویسے ہی پھیلا ہے مرے اندر مگر دل خون کے بدلے فراوانی سے بہتے درد کی گردش سے جو بے حال رہتا ہے تو دھڑکن ٹیس بن کر سینے میں اک وحشیانہ رقص کرتی ہے انہی دو انتہاؤں پر کھڑا یہ جسم و جاں ...

    مزید پڑھیے

    سوچ رہی ہوں

    گونگی ہوتی ہوئی خاموشی سناٹے کی دہلیز پکڑ کر جانے کب تک جمی رہے گی میں وہ لفظ ہی بھول آئی ہوں رستے میں ہی گرا آئی ہوں جو تم سے ملنے آئے تھے جانتے ہو تم لفظ مری دھڑکن تھے اس پل سینے میں اک حشر بپا تھا سرخی کا پیراہن اوڑھے میرے سجیلے لفظ وہ سارے سپنوں کے رنگین محل میں رہنے کو بے تاب ...

    مزید پڑھیے

    میں اور تم

    رات کے پچھلے پہر کی سنسان سڑکیں رم جھم برستی بارش کی پھوار میں بھیگتی جیسے جی اٹھی تھیں جب میرے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے تم نے لمس کی حدت سے بوجھل ہوتی بے ترتیب سانسوں کے بیچ الجھتی اپنی دل نشین آواز میرے کانوں میں تمہارے لیے میری آخری نظم صورت اتاری تھی اس انمول لمحے ...

    مزید پڑھیے

    چلتی پھرتی دیواریں

    کون ہے وہ کچھ نہیں جانتے دیکھ سکتے نہیں دنیا کی دیواروں میں چنے ہوئے پتھر کون میرے خوابوں میں آسمانوں سے اترتا ہے جادو زدہ لوگوں کو دیواروں سے نکال کر زندہ دلوں کی بستیاں آباد کرنا چاہتا ہے مگر یہ لوگ کیسے ہیں بضد ہیں دلوں تک جاتے رستے بند رکھنے پر آنکھوں زبانوں اور دماغوں ...

    مزید پڑھیے

    ری انکریشن

    مرے آنگن میں بکھرے زرد پتے مجھے ہم راز لگتے ہیں یہ جب ہلکی ہوا کی سرسراہٹ سے لرزتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ان پہ کوئی بھید سا کھلنے لگا ہے جیسے ان کو باور ہو گیا ہے کہ خود شاخوں نے بے پروائی سے دامن چھڑایا ہے زمیں نے بھی نگاہیں پھیر لی ہیں انہیں معلوم ہے شاید زمیں پیروں تلے ہی جب نہ ...

    مزید پڑھیے

    آہٹ

    بوسیدہ سی ٹاٹ کے پیچھے کچی سی اک جھونپڑیا میں برفیلی سی شام اتری ہے تنہائی کا پلو تھامے سہمی سہمی کچھ بیچیں سی وہ کونے میں سمٹی ہے ٹین کی چھت پہ گھنگھرو باندھے چھن چھن کرتی وحشت میں دیوانہ وار بارش ناچتی پھرتی ہے دور کہیں بادل کی گرج میں اک مانوس سی آہٹ ہے جس کی گیلی سرگوشی سے ہر ...

    مزید پڑھیے

    موت کس نے بانٹی ہے

    رات کے اندھیرے میں آج پھر دبے پاؤں سرسراتی سرگوشی پھن اٹھا کے چلتی ہے وقت ریت کی مانند ہاتھ سے پھسلتا ہے نیند مجھ سے روٹھی ہے بھوک رقص کرتی ہے پیاس چبھنے لگتی ہے سانس کیوں اٹکتی ہے جھانکو میری آنکھوں میں عکس دیکھ لو اپنا اور مجھے یہ بتلا دو کیا تمہیں کھٹکتا ہے کیوں گریزاں ہو مجھ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2