معذور بچے

بچے ہیں ہم لعل و گہر
کیا ہیں ہماری عظمتیں
ہم باسلیقہ با ہنر
معذور ہم کو مت کہو
روشن ہیں مانند قمر
مجبور ہم کو مت کہو
ہر دم بلندی پر نظر
خورشید ہم مہتاب ہم
معذور ہم کو مت کہو
شائستہ آداب ہم
مجبور ہم کو مت کہو
خدمت کا روشن باب ہم
سادہ زباں شیریں سخن
اندر سے ہیں شاداب ہم
ہم ہیں امیدوں کی کرن
معذور ہم کو مت کہو
ہم پھول ہم جان چمن
مجبور ہم کو مت کہو
ہم زندگی کا بانکپن
ہم آسماں پر چھائیں گے
معذور ہم کو مت کہو
ہم روشنی پھیلائیں گے
مجبور ہم کو مت کہو
اور کہکشاں بن جائیں گے
جس دن ہماری محنتیں
دنیا میں عزت پائیں گی
اس دن کھلیں گی قسمتیں
معذور ہم کو مت کہو
دیں گی جہاں کو نعمتیں
مجبور ہم کو مت کہو