کوئی نہیں جو ہلکا کر دے بار سفر مجھ تنہا کا
کوئی نہیں جو ہلکا کر دے بار سفر مجھ تنہا کا دوش پہ ہے امروز کا بوجھ اور سر پر قرض ہے فردا کا آندھی آئے تو اندیشہ طوفاں اٹھے تو تشویش ایک طرف سے صحرا کا قرب ایک طرف سے دریا کا کن زخموں کے ٹانکے ٹوٹے کن داغوں کے بند کھلے خون ہے رنگت شام و سحر کی آگ ہے موسم دنیا کا کوچے کے خاموش ...