Mahmood Shaam

محمود شام

پاکستان کے ممتاز صحافی

FormeOne of the most prominent journalists in Pakistan

محمود شام کے تمام مواد

36 غزل (Ghazal)

    ٹوٹے ہیں کیسے خواہشوں کے آئنوں کو دیکھ

    ٹوٹے ہیں کیسے خواہشوں کے آئنوں کو دیکھ پلکوں کی تہ میں بکھری ہوئی کرچیوں کو دیکھ میں ہوں ترا ہی عکس مرے رنگ پر نہ جا آنکھوں میں جھانک اپنی ہی تنہائیوں کو دیکھ یہ آسماں کے بدلے ہوئے رنگ غور کر ان موسموں کے بپھرے ہوئے تیوروں کو دیکھ سن تو در خیال پہ فردا کی دستکیں خود کا حصار توڑ ...

    مزید پڑھیے

    روز و شب کی شاخ سے بچھڑا ہوا پتا ہوں میں

    روز و شب کی شاخ سے بچھڑا ہوا پتا ہوں میں وقت بھی اب ڈھونڈھتا ہے جس کو وہ لمحہ ہوں میں دل کے شیشے ٹوٹ جاتے ہیں مری آواز سے اک شکستہ ساز سے ابھرا ہوا نغمہ ہوں میں ہم نشینوں کو کبھی آتی نہیں ہے آنچ تک کتنی ٹھنڈی آگ ہے جس میں سدا جلتا ہوں میں زندگی کے شور میں سمٹے رہے ذرے مرے اک ذرا ...

    مزید پڑھیے

    دل میں جب تیری لگن رقص کیا کرتی تھی

    دل میں جب تیری لگن رقص کیا کرتی تھی میری ہر سانس میں خوشبو سی بسا کرتی تھی اب تو محفل سے بھی ہوتا نہیں کچھ غم کا علاج پہلے تنہائی بھی دکھ بانٹ لیا کرتی تھی اب جو رقصا ہے کئی رنگ بھرے چہروں میں یہی مٹی کبھی بے کار اڑا کرتی تھی رنگ کے جال ہی ملتے ہیں جدھر جاتا ہوں روشنی یوں نہ مجھے ...

    مزید پڑھیے

    کبھی میں عالم امکاں سے گزر جاتا ہوں

    کبھی میں عالم امکاں سے گزر جاتا ہوں اور کبھی جسم کی دلدل میں اتر جاتا ہوں یہ بھرا شہر کبھی مجھ میں سمٹ آتا ہے کبھی میں شہر میں ہر گام بکھر جاتا ہوں شہر سے رہتی ہے اک جنگ مسلسل دن بھر شہر جب ہانپنے لگتا ہے تو گھر جاتا ہوں اس کشاکش میں ہی ملتا ہے نشاں ہونے کا جب بھی تکمیل کا احساس ...

    مزید پڑھیے

    جھانکتے لوگ کھلے دروازے

    جھانکتے لوگ کھلے دروازے چاند کا شہر بنے دروازے کس کی آہٹ کا فسوں طاری ہے محو ہیں آج بڑے دروازے بول کے دیں نہ کبھی دیواریں سر پٹختے ہی رہے دروازے لوگ محفوظ ہوئے کمروں میں برف کی زد میں رہے دروازے کبھی سورج کی کبھی ظلمت کی مار سہتے ہی رہے دروازے رات بھر چاندنی ٹکرائی مگر صبح ...

    مزید پڑھیے

تمام