Mahmood Sana

محمود ثنا

محمود ثنا کی نظم

    چاند رات

    رات کی حویلی سے چاند جب نکلتا ہے آنکھ کے دریچے سے آرزو مہکتی ہے روشنی محبت کی چار سو بکھرتی ہے جسم کے جزیرے پر رت جگا اترتا ہے ریزہ ریزہ کرتا ہے

    مزید پڑھیے

    لفظ لکھنا بھول جاتا ہوں

    مجھے اڑتے پرندے اچھے لگتے ہیں مجھے ان کی اڑانوں سے نئے آتے ہوئے سب موسموں کی آہٹیں محسوس ہوتی ہیں مجھے ان کی اڑانیں بارشیں اور پھول کھلنے کی بشارت دینے آتی ہیں مجھے ان کی اڑانیں زندگی کے راستوں پر حوصلوں کا درس دیتی ہیں مرے ہاتھوں نے حرفوں کے گلابوں کو انہی سے لکھنا سیکھا ...

    مزید پڑھیے

    ہمارا ڈر کھلے

    جہان آرزو میں بے یقینی کے سبھی موسم ہمارے راستوں کو دھول کرتے ہیں کوئی اک آیت رد بلا جو خوف سے بھنچے ہوئے جبڑوں تنے اعصاب کو آسودگی بخشے کوئی تو اسم اعظم ہو کہ شہر ذات کا یہ در کھلے ہمارا ڈر کھلے

    مزید پڑھیے