چاند رات
رات کی حویلی سے چاند جب نکلتا ہے آنکھ کے دریچے سے آرزو مہکتی ہے روشنی محبت کی چار سو بکھرتی ہے جسم کے جزیرے پر رت جگا اترتا ہے ریزہ ریزہ کرتا ہے
رات کی حویلی سے چاند جب نکلتا ہے آنکھ کے دریچے سے آرزو مہکتی ہے روشنی محبت کی چار سو بکھرتی ہے جسم کے جزیرے پر رت جگا اترتا ہے ریزہ ریزہ کرتا ہے
مجھے اڑتے پرندے اچھے لگتے ہیں مجھے ان کی اڑانوں سے نئے آتے ہوئے سب موسموں کی آہٹیں محسوس ہوتی ہیں مجھے ان کی اڑانیں بارشیں اور پھول کھلنے کی بشارت دینے آتی ہیں مجھے ان کی اڑانیں زندگی کے راستوں پر حوصلوں کا درس دیتی ہیں مرے ہاتھوں نے حرفوں کے گلابوں کو انہی سے لکھنا سیکھا ...
جہان آرزو میں بے یقینی کے سبھی موسم ہمارے راستوں کو دھول کرتے ہیں کوئی اک آیت رد بلا جو خوف سے بھنچے ہوئے جبڑوں تنے اعصاب کو آسودگی بخشے کوئی تو اسم اعظم ہو کہ شہر ذات کا یہ در کھلے ہمارا ڈر کھلے