ہمارا ڈر کھلے محمود ثنا 07 ستمبر 2020 شیئر کریں جہان آرزو میں بے یقینی کے سبھی موسم ہمارے راستوں کو دھول کرتے ہیں کوئی اک آیت رد بلا جو خوف سے بھنچے ہوئے جبڑوں تنے اعصاب کو آسودگی بخشے کوئی تو اسم اعظم ہو کہ شہر ذات کا یہ در کھلے ہمارا ڈر کھلے