Mahmood Ghazni

محمود غزنی

محمود غزنی کی غزل

    مرے غریب سے گھر میں ترے قدم آئے

    مرے غریب سے گھر میں ترے قدم آئے وہ چند لمحے تھے جو زندگی میں کم آئے کبھی تو آنکھ میں الفت کی روشنی دیکھوں کبھی تو پیار میں ڈھل کر ترا ستم آئے یہی خیال ہے روز ازل خدا کے حضور تمام لوگ خوشی لے چکے تو ہم آئے کبھی کبھی تو زمانوں کے بعد ملتے ہو ملا کرو کہ ذرا دوستی میں دم آئے یہ ...

    مزید پڑھیے

    ترا خیال اگر جزو زندگی نہ رہے

    ترا خیال اگر جزو زندگی نہ رہے جہاں میں میرے لیے کوئی دل کشی نہ رہے میں آ گیا ہوں وہاں تک تری تمنا میں جہاں سے کوئی بھی امکان واپسی نہ رہے تو ٹھیک کہتا ہے اے دوست ٹھیک کہتا ہے کہ ہم ہی قابل تجدید دوستی نہ رہے حضور یاد ہے میدان حشر کا وعدہ کہیں وہاں بھی مری آنکھ ڈھونڈھتی نہ ...

    مزید پڑھیے

    پیسے ہوتے تو تجھے لے کے کھلونے دیتا

    پیسے ہوتے تو تجھے لے کے کھلونے دیتا ورنہ کیا میں میرے بچے تجھے رونے دیتا ہونٹ پر رکھتا ہے انگشت شہادت ایسے بات میری وہ مکمل نہیں ہونے دیتا ہے تو مفلس وہ مگر اپنی دوائی سے کبھی خرچ احباب کے پیسے نہیں ہونے دیتا ایسا کرنے کی بھی بخشی نہ اجازت اس نے کم سے کم درد تو شعروں میں سمونے ...

    مزید پڑھیے