مرے غریب سے گھر میں ترے قدم آئے

مرے غریب سے گھر میں ترے قدم آئے
وہ چند لمحے تھے جو زندگی میں کم آئے


کبھی تو آنکھ میں الفت کی روشنی دیکھوں
کبھی تو پیار میں ڈھل کر ترا ستم آئے


یہی خیال ہے روز ازل خدا کے حضور
تمام لوگ خوشی لے چکے تو ہم آئے


کبھی کبھی تو زمانوں کے بعد ملتے ہو
ملا کرو کہ ذرا دوستی میں دم آئے


یہ سانحہ ہے کہ سادہ تھے جس قدر غزنیؔ
رہ حیات میں اتنے ہی پیچ و خم آئے