Mahmood Ghazni

محمود غزنی

محمود غزنی کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    مرے غریب سے گھر میں ترے قدم آئے

    مرے غریب سے گھر میں ترے قدم آئے وہ چند لمحے تھے جو زندگی میں کم آئے کبھی تو آنکھ میں الفت کی روشنی دیکھوں کبھی تو پیار میں ڈھل کر ترا ستم آئے یہی خیال ہے روز ازل خدا کے حضور تمام لوگ خوشی لے چکے تو ہم آئے کبھی کبھی تو زمانوں کے بعد ملتے ہو ملا کرو کہ ذرا دوستی میں دم آئے یہ ...

    مزید پڑھیے

    ترا خیال اگر جزو زندگی نہ رہے

    ترا خیال اگر جزو زندگی نہ رہے جہاں میں میرے لیے کوئی دل کشی نہ رہے میں آ گیا ہوں وہاں تک تری تمنا میں جہاں سے کوئی بھی امکان واپسی نہ رہے تو ٹھیک کہتا ہے اے دوست ٹھیک کہتا ہے کہ ہم ہی قابل تجدید دوستی نہ رہے حضور یاد ہے میدان حشر کا وعدہ کہیں وہاں بھی مری آنکھ ڈھونڈھتی نہ ...

    مزید پڑھیے

    پیسے ہوتے تو تجھے لے کے کھلونے دیتا

    پیسے ہوتے تو تجھے لے کے کھلونے دیتا ورنہ کیا میں میرے بچے تجھے رونے دیتا ہونٹ پر رکھتا ہے انگشت شہادت ایسے بات میری وہ مکمل نہیں ہونے دیتا ہے تو مفلس وہ مگر اپنی دوائی سے کبھی خرچ احباب کے پیسے نہیں ہونے دیتا ایسا کرنے کی بھی بخشی نہ اجازت اس نے کم سے کم درد تو شعروں میں سمونے ...

    مزید پڑھیے