Mahmood Ayaz

محمود ایاز

اپنے ادبی رسالے ’سوغات‘ کے لیے معروف

Famous for his path-breaking literary magazine Saughaat.

محمود ایاز کی غزل

    وہ نہ چاہے تو میں بینا نہ رہوں (ردیف .. ے)

    وہ نہ چاہے تو میں بینا نہ رہوں وہ جو چاہے تو نظر بھی آئے وہ مرے ساتھ ہے سائے کی طرح دل کی ضد ہے کہ نظر بھی آئے اس سے ہی اذن سفر مانگا ہے اس سے ہی زاد سفر بھی آئے اس نے توفیق دعا بخشی ہے اب دعاؤں میں اثر بھی آئے کبھی آہوں سے اٹھے باد مراد کبھی اشکوں سے گہر بھی آئے

    مزید پڑھیے

    محیط خواب سے اک باد تہہ نشیں ابھری (ردیف .. ا)

    محیط خواب سے اک باد تہہ نشیں ابھری ہوائے صبح سے اک غرفۂ خیال کھلا مسام جاں میں ہے اک دست آشنا کی مہک غبار دشت میں روشن ہے نقش پا کس کا وہ کیسی دید کی ساعت تھی پھر نہیں آئی وہ کیسا خواب تھا اک عمر چشم تر میں رہا جو انتظار ابد تک ہے جسم و جاں کے فراق جو ہو سکے تو اب اس رات کو ابد سے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2