Mahir Ratlami

ماہر رتلامی

ماہر رتلامی کی غزل

    گردش وقت سے یوں آنکھ ملا کر دیکھے

    گردش وقت سے یوں آنکھ ملا کر دیکھے غم میں دنیا کے کوئی اشک بہا کر دیکھے جس طرح نذر کیا برق کو میں نے گلشن اس طرح کوئی نشیمن ہی جلا کر دیکھے مسکراتا ہوں ہر اک ظلم پہ مرضی کے خلاف یوں زمانے کا کوئی درد چھپا کر دیکھے درد و غم مکر و فریب اس کے سوا کچھ نہ ملا میں نے اپنوں کے بہت ناز ...

    مزید پڑھیے

    وہ کر رہا ہے وفائیں مگر جفا کی طرح

    وہ کر رہا ہے وفائیں مگر جفا کی طرح یہ زیست کٹ تو رہی ہے مگر سزا کی طرح مریض ہجر محبت سمجھ نہ پائے اسے پلاؤ زہر پلاؤ مگر دوا کی طرح دراز میرے گناہوں کا سلسلہ ہے مگر ترے کرم کے مقابل ہوں بے خطا کی طرح سنی نہ پاؤں کی آہٹ مری سماعت نے وہ آئے آ کے چلے بھی گئے ہوا کی طرح ہر ایک شخص کے ...

    مزید پڑھیے

    تیرا دیوانہ لئے چاک گریباں کب سے

    تیرا دیوانہ لئے چاک گریباں کب سے پھر رہا ہے ترے کوچے میں پریشاں کب سے قدر کر وعدہ شکن پاس وفا کی کچھ تو کر کے بیٹھا ہے کوئی جشن چراغاں کب سے دیکھ کر جام بکف مجھ کو ہے کیوں خوفزدہ میں بلاتا ہوں تجھے گردش دوراں کب سے میرے ہونٹوں پہ ہنسی دیکھ کے خوش ہے دنیا کون سمجھے گا مرا دل ہے ...

    مزید پڑھیے

    وہ سامنے جو مرے ایک بار آ جائے

    وہ سامنے جو مرے ایک بار آ جائے نظر کو چین تو دل کو قرار آ جائے وہ لوگ جن کو سمجھتے ہیں سب وفا دشمن پھر ان پہ کیسے بھلا اعتبار آ جائے تڑپ رہا ہوں جدائی میں رات دن جس کی خدا کرے کہ وہ جان بہار آ جائے بہائے اشک نہ شبنم کبھی جو گلشن میں یقیں نہیں کہ چمن پر نکھار آ جائے چھٹے نہ ہاتھ سے ...

    مزید پڑھیے