گردش وقت سے یوں آنکھ ملا کر دیکھے
گردش وقت سے یوں آنکھ ملا کر دیکھے غم میں دنیا کے کوئی اشک بہا کر دیکھے جس طرح نذر کیا برق کو میں نے گلشن اس طرح کوئی نشیمن ہی جلا کر دیکھے مسکراتا ہوں ہر اک ظلم پہ مرضی کے خلاف یوں زمانے کا کوئی درد چھپا کر دیکھے درد و غم مکر و فریب اس کے سوا کچھ نہ ملا میں نے اپنوں کے بہت ناز ...