تیرا دیوانہ لئے چاک گریباں کب سے

تیرا دیوانہ لئے چاک گریباں کب سے
پھر رہا ہے ترے کوچے میں پریشاں کب سے


قدر کر وعدہ شکن پاس وفا کی کچھ تو
کر کے بیٹھا ہے کوئی جشن چراغاں کب سے


دیکھ کر جام بکف مجھ کو ہے کیوں خوفزدہ
میں بلاتا ہوں تجھے گردش دوراں کب سے


میرے ہونٹوں پہ ہنسی دیکھ کے خوش ہے دنیا
کون سمجھے گا مرا دل ہے پریشاں کب سے


تجھ کو احساس بھی کچھ ہے کہ نہیں جان چمن
راہ تکتے ہیں تری اہل گلستاں کب سے


آپ بھی کاش سمجھتے مری غزلوں کی زباں
آپ کی بزم میں ماہرؔ ہے غزل خواں کب سے