وہ سامنے جو مرے ایک بار آ جائے
وہ سامنے جو مرے ایک بار آ جائے
نظر کو چین تو دل کو قرار آ جائے
وہ لوگ جن کو سمجھتے ہیں سب وفا دشمن
پھر ان پہ کیسے بھلا اعتبار آ جائے
تڑپ رہا ہوں جدائی میں رات دن جس کی
خدا کرے کہ وہ جان بہار آ جائے
بہائے اشک نہ شبنم کبھی جو گلشن میں
یقیں نہیں کہ چمن پر نکھار آ جائے
چھٹے نہ ہاتھ سے ماہرؔ وفاؤں کا دامن
رفیق کیا ہیں رقیبوں کو پیار آ جائے