Mahir Ratlami

ماہر رتلامی

ماہر رتلامی کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    گردش وقت سے یوں آنکھ ملا کر دیکھے

    گردش وقت سے یوں آنکھ ملا کر دیکھے غم میں دنیا کے کوئی اشک بہا کر دیکھے جس طرح نذر کیا برق کو میں نے گلشن اس طرح کوئی نشیمن ہی جلا کر دیکھے مسکراتا ہوں ہر اک ظلم پہ مرضی کے خلاف یوں زمانے کا کوئی درد چھپا کر دیکھے درد و غم مکر و فریب اس کے سوا کچھ نہ ملا میں نے اپنوں کے بہت ناز ...

    مزید پڑھیے

    وہ کر رہا ہے وفائیں مگر جفا کی طرح

    وہ کر رہا ہے وفائیں مگر جفا کی طرح یہ زیست کٹ تو رہی ہے مگر سزا کی طرح مریض ہجر محبت سمجھ نہ پائے اسے پلاؤ زہر پلاؤ مگر دوا کی طرح دراز میرے گناہوں کا سلسلہ ہے مگر ترے کرم کے مقابل ہوں بے خطا کی طرح سنی نہ پاؤں کی آہٹ مری سماعت نے وہ آئے آ کے چلے بھی گئے ہوا کی طرح ہر ایک شخص کے ...

    مزید پڑھیے

    تیرا دیوانہ لئے چاک گریباں کب سے

    تیرا دیوانہ لئے چاک گریباں کب سے پھر رہا ہے ترے کوچے میں پریشاں کب سے قدر کر وعدہ شکن پاس وفا کی کچھ تو کر کے بیٹھا ہے کوئی جشن چراغاں کب سے دیکھ کر جام بکف مجھ کو ہے کیوں خوفزدہ میں بلاتا ہوں تجھے گردش دوراں کب سے میرے ہونٹوں پہ ہنسی دیکھ کے خوش ہے دنیا کون سمجھے گا مرا دل ہے ...

    مزید پڑھیے

    وہ سامنے جو مرے ایک بار آ جائے

    وہ سامنے جو مرے ایک بار آ جائے نظر کو چین تو دل کو قرار آ جائے وہ لوگ جن کو سمجھتے ہیں سب وفا دشمن پھر ان پہ کیسے بھلا اعتبار آ جائے تڑپ رہا ہوں جدائی میں رات دن جس کی خدا کرے کہ وہ جان بہار آ جائے بہائے اشک نہ شبنم کبھی جو گلشن میں یقیں نہیں کہ چمن پر نکھار آ جائے چھٹے نہ ہاتھ سے ...

    مزید پڑھیے