ماہر عبدالحی کی غزل

    روز اول ہی سے تفریق یہ اوقات میں ہے

    روز اول ہی سے تفریق یہ اوقات میں ہے کوئی ہے دن کے اجالے میں کوئی رات میں ہے میں بھی مجموعۂ اضداد ہوں دنیا کی طرح کہیں صحرا کہیں گلزار مری ذات میں ہے ہے مرے گرد مری ماں کی دعاؤں کا حصار غم نہیں ہے کوئی دشمن جو مری گھات میں ہے میں تہی دست ہوں لیکن یہ پتہ ہے مجھ کو وہ مرے نام ہے جو ...

    مزید پڑھیے

    تنہائی کا غم روح کے اندر سے نکالوں

    تنہائی کا غم روح کے اندر سے نکالوں آواز کوئی دے تو قدم گھر سے نکالوں دنیا اسے پوجے گی بصد حسن عقیدت میں اپنی شباہت کو جو پتھر سے نکالوں کھو جاؤں کہیں تیرہ‌ خلاؤں میں تو کیا ہو خود کو جو ترے درد کے محور سے نکالوں جو دوست نظر آتے ہیں بن جائیں گے دشمن کیا منہ سے نہ سچ بات بھی اس ڈر ...

    مزید پڑھیے

    وحشت کے سو رنگ دکھانے والا میں

    وحشت کے سو رنگ دکھانے والا میں خود اپنی زنجیر بنانے والا میں روز کنواں کھودوں تو پیاس بجھاؤں روز دریاؤں سے پیاس بجھانے والا میں ماضی کے بے برگ شجر پر بیٹھا ہوں مستقبل کے گیت سنانے والا میں کیسے ممکن ہے اپنوں پر وار کروں دشمن کی چوٹیں سہلانے والا میں اندر اندر درد کی لہریں ...

    مزید پڑھیے

    زخم پر رکھتا ہے مرہم آسماں نشتر سمیت

    زخم پر رکھتا ہے مرہم آسماں نشتر سمیت امن کا پیغام دیتی ہے ہوا خنجر سمیت جب مرے ہمدرد نے بے دست و پا دیکھا مجھے لے گیا میرے سمندر سے صدف گوہر سمیت چار جانب آگ بھڑکائی گئی اس طور سے اہل بینش کی نظر بھی جل گئی منظر سمیت آسماں کی چھت زمیں کا فرش بخشتا جائے گا گھر اجاڑے جائیں گے ...

    مزید پڑھیے

    نئی تہذیب سے بچوں کو بچاؤں کیسے

    نئی تہذیب سے بچوں کو بچاؤں کیسے خود تو بگڑا ہوں زمانے کو بناؤں کیسے وہ نہ دیکھے میری جانب تو نہیں اس کی خطا میں اندھیرے میں پڑا ہوں نظر آؤں کیسے میرے آنگن میں تو آئی ہی نہیں موج بہار کوئی پھولوں سے بھرا گیت سناؤں کیسے چاہتا تو ہوں کہ دیکھوں پس پردہ کیا ہے دسترس جس پہ نہ ہو اس کو ...

    مزید پڑھیے

    آزادی میں رہنے والے دیکھو کیسے رہتے ہیں

    آزادی میں رہنے والے دیکھو کیسے رہتے ہیں اپنے سائے سے ڈرتے ہیں چونکے چونکے رہتے ہیں ہرے بھرے پیڑوں کے اوپر جن کے ٹھور ٹھکانے تھے اب وہ پنچھی شور زمیں پر دھوپ میں جلتے رہتے ہیں ٹکراتے رہتے ہیں اکثر پتھر جیسے لوگوں سے ہم دل والے کرچی کرچی آئینے سے رہتے ہیں گہرائی سے موتی لانے ...

    مزید پڑھیے

    کھو گئے یوں کارخانے یا کسی دفتر میں ہم

    کھو گئے یوں کارخانے یا کسی دفتر میں ہم چھٹیوں میں اجنبی لگتے ہیں اپنے گھر میں ہم فاصلے سے دیکھنے والا ہمیں سمجھے گا کیا پیاس کا صحرا ہیں دریاؤں کے پس منظر میں ہم رات کو سونے سے پہلے کیا کریں اس کا حساب کتنے سایوں کا تعاقب کر سکے دن بھر میں ہم بس ہمیں ہم ہیں جہاں تک کام کرتی ہے ...

    مزید پڑھیے

    کس کے آنگن سے گزر کر یہ ہوا آتی ہے

    کس کے آنگن سے گزر کر یہ ہوا آتی ہے سسکیاں لیتی ہوئی بوئے حنا آتی ہے کیا کمی ہے کہ نگاہوں سے گرے جاتے ہو دل میں گھر کرنے کی تم کو تو ادا آتی ہے دل کی باتیں مجھے کہنی نہیں آتیں لیکن یہی کیا کم ہے تری حمد و ثنا آتی ہے کھا رہی ہے تن بیمار کو اندر اندر کس مسیحا کی دکاں سے یہ دوا آتی ...

    مزید پڑھیے

    آوارہ آوارہ خوشبو ہم دونو (ردیف .. ن)

    آوارہ آوارہ خوشبو ہم دونو جانے کس دن ہوں گے یکسو ہم دونوں تازہ تازہ پھولوں کی رت کہتی ہے کر لیں کچھ تفریح لب جو ہم دونوں پھر کیا شے ہے مانع ساتھ نبھانے میں رکھتے تو ہیں یکساں خوشبو ہم دونوں میں چلتا ہوں دل پر عقل و ہوش پہ تو جس کا توڑ نہیں وہ جادو ہم دونوں اپنی اپنی پہچانوں کے ...

    مزید پڑھیے

    دل کا سرمایہ لئے تو بھی کوئی بازار دیکھ

    دل کا سرمایہ لئے تو بھی کوئی بازار دیکھ تیرے دشمن کا چمک اٹھا ہے کاروبار دیکھ جس پہ چلنے کا صلہ ہے منزل امن و سکوں کھینچ دی ہے وقت نے اس راہ میں دیوار دیکھ روح تازہ کون پھونکے گا تن بے روح میں لشکر درماندگاں ہے بے سپہ سالار دیکھ ہجرتوں کے سلسلے باقی ہیں دنیا میں ابھی لیکن اب ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2