روز اول ہی سے تفریق یہ اوقات میں ہے
روز اول ہی سے تفریق یہ اوقات میں ہے کوئی ہے دن کے اجالے میں کوئی رات میں ہے میں بھی مجموعۂ اضداد ہوں دنیا کی طرح کہیں صحرا کہیں گلزار مری ذات میں ہے ہے مرے گرد مری ماں کی دعاؤں کا حصار غم نہیں ہے کوئی دشمن جو مری گھات میں ہے میں تہی دست ہوں لیکن یہ پتہ ہے مجھ کو وہ مرے نام ہے جو ...