ماہر عبدالحی کے تمام مواد

20 غزل (Ghazal)

    جو بظاہر سحر آثار نظر آتے ہیں

    جو بظاہر سحر آثار نظر آتے ہیں وہ بھی اندر سے شب تار نظر آتے ہیں کیجیے کس سے یہاں قدر ہنر کی امید اب وہ دربار نہ در بار نظر آتے ہیں کم سے کم اپنے گریباں ہی کے پرزے کرتے ہاتھ پر ہاتھ دھرے یار نظر آتے ہیں شہر در شہر مکانوں میں اندھیرا ہے مگر جگمگاتے ہوئے بازار نظر آتے ہیں کون آواز ...

    مزید پڑھیے

    اپنی خطا کو اس نے مرے نام لکھ دیا

    اپنی خطا کو اس نے مرے نام لکھ دیا اس پر کمال یہ کہ سر عام لکھ دیا اندھوں کے درمیان رہوں آئنہ مثال میرے لئے خدا نے عجب کام لکھ دیا ناراض ہے وہ مجھ سے بس اتنی سی بات پر تیرہ شبی کو دن نہ لکھا شام لکھ دیا کچھ بن پڑا نہ حسرت تعمیر سے تو پھر اجڑے ہوئے کھنڈر کو در و بام لکھ دیا جب تیرگی ...

    مزید پڑھیے

    مدتوں سے جو معطر تھا وہ دفتر کاٹ کر

    مدتوں سے جو معطر تھا وہ دفتر کاٹ کر زرد موسم لکھ دیا سطر گل تر کاٹ کر دیدۂ بینا کی خاطر تھا جو سامان نشاط ریزہ ریزہ کر دیا کس نے وہ منظر کاٹ کر کوئی کھڑکی ہی نظر آئی نہ دروازہ ملا تھک گئے ہیں پاؤں دیواروں کے چکر کاٹ کر دامن شب میں ہیں کتنے پھول کیا اس کو خبر سو گیا کوہ مشقت کو جو ...

    مزید پڑھیے

    عجیب دور ہے اہل ہنر نہیں آتے

    عجیب دور ہے اہل ہنر نہیں آتے پدر کا علم لئے اب پسر نہیں آتے ہوا کے جھونکے بھی لے کر خبر نہیں آتے جو گھر سے جاتے ہیں پھر لوٹ کر نہیں آتے ہزار شاخ تمنا کی دیکھ بھال کرو یہ شاخ وہ ہے کہ جس پر ثمر نہیں آتے سمجھ سکیں گے نہ میری گزر بسر کو حضور سنہرے تخت سے جب تک اتر نہیں آتے ہم ان کی ...

    مزید پڑھیے

    وقت کے دامن سے داغ تیرگی دھو جائیں گے

    وقت کے دامن سے داغ تیرگی دھو جائیں گے درد کا سورج زمین شب میں ہم بو جائیں گے آج رونے کی جگہ پر جن کو آتی ہے ہنسی کل وہی ہنسنے کے موقع پر لہو رو جائیں گے کچھ نہ کچھ طوطی کی بھی سنتے اگر یہ جانتے ایک دن نقار خانے بے صدا ہو جائیں گے رات کی رنگینیاں منہ دیکھتی رہ جائیں گی ہم تھکن سے ...

    مزید پڑھیے

تمام