ماہر عبدالحی کی غزل

    جو بظاہر سحر آثار نظر آتے ہیں

    جو بظاہر سحر آثار نظر آتے ہیں وہ بھی اندر سے شب تار نظر آتے ہیں کیجیے کس سے یہاں قدر ہنر کی امید اب وہ دربار نہ در بار نظر آتے ہیں کم سے کم اپنے گریباں ہی کے پرزے کرتے ہاتھ پر ہاتھ دھرے یار نظر آتے ہیں شہر در شہر مکانوں میں اندھیرا ہے مگر جگمگاتے ہوئے بازار نظر آتے ہیں کون آواز ...

    مزید پڑھیے

    اپنی خطا کو اس نے مرے نام لکھ دیا

    اپنی خطا کو اس نے مرے نام لکھ دیا اس پر کمال یہ کہ سر عام لکھ دیا اندھوں کے درمیان رہوں آئنہ مثال میرے لئے خدا نے عجب کام لکھ دیا ناراض ہے وہ مجھ سے بس اتنی سی بات پر تیرہ شبی کو دن نہ لکھا شام لکھ دیا کچھ بن پڑا نہ حسرت تعمیر سے تو پھر اجڑے ہوئے کھنڈر کو در و بام لکھ دیا جب تیرگی ...

    مزید پڑھیے

    مدتوں سے جو معطر تھا وہ دفتر کاٹ کر

    مدتوں سے جو معطر تھا وہ دفتر کاٹ کر زرد موسم لکھ دیا سطر گل تر کاٹ کر دیدۂ بینا کی خاطر تھا جو سامان نشاط ریزہ ریزہ کر دیا کس نے وہ منظر کاٹ کر کوئی کھڑکی ہی نظر آئی نہ دروازہ ملا تھک گئے ہیں پاؤں دیواروں کے چکر کاٹ کر دامن شب میں ہیں کتنے پھول کیا اس کو خبر سو گیا کوہ مشقت کو جو ...

    مزید پڑھیے

    عجیب دور ہے اہل ہنر نہیں آتے

    عجیب دور ہے اہل ہنر نہیں آتے پدر کا علم لئے اب پسر نہیں آتے ہوا کے جھونکے بھی لے کر خبر نہیں آتے جو گھر سے جاتے ہیں پھر لوٹ کر نہیں آتے ہزار شاخ تمنا کی دیکھ بھال کرو یہ شاخ وہ ہے کہ جس پر ثمر نہیں آتے سمجھ سکیں گے نہ میری گزر بسر کو حضور سنہرے تخت سے جب تک اتر نہیں آتے ہم ان کی ...

    مزید پڑھیے

    وقت کے دامن سے داغ تیرگی دھو جائیں گے

    وقت کے دامن سے داغ تیرگی دھو جائیں گے درد کا سورج زمین شب میں ہم بو جائیں گے آج رونے کی جگہ پر جن کو آتی ہے ہنسی کل وہی ہنسنے کے موقع پر لہو رو جائیں گے کچھ نہ کچھ طوطی کی بھی سنتے اگر یہ جانتے ایک دن نقار خانے بے صدا ہو جائیں گے رات کی رنگینیاں منہ دیکھتی رہ جائیں گی ہم تھکن سے ...

    مزید پڑھیے

    جو در کھلا ہے شکستہ مکاں کا حصہ ہے

    جو در کھلا ہے شکستہ مکاں کا حصہ ہے مرا یقین فریب گماں کا حصہ ہے کہاں سے آئی حرم میں یہ خاک راہ گزر وہیں پہ ڈال دو اس کو جہاں کا حصہ ہے کسی شکستہ جگہ ٹھیک بیٹھتا ہی نہیں دل حزیں کا یہ ٹکڑا کہاں کا حصہ ہے سفر نصیب ہوں ساحل سے کیا غرض مجھ کو مرا سفینہ تو آب رواں کا حصہ ہے عجب اصول ...

    مزید پڑھیے

    اجنبی مسافر کو راستہ دکھائے گا

    اجنبی مسافر کو راستہ دکھائے گا کون اپنی چوکھٹ پر اب دیا جلائے گا جتنی نعمتیں ہوں گی خوب ڈٹ کے کھائے گا پھر ہمیں قناعت کا وہ سبق پڑھائے گا پہلے آنے والے ہی لوٹ لے گئے سب مال بعد میں جو آئے گا خالی ہاتھ جائے گا پیٹ ہے اگر خالی پھر کہاں کی خودداری بھوک جب ستائے گی خود کو بیچ کھائے ...

    مزید پڑھیے

    فریب شب کا گرفتار رہوں بچاؤ مجھے

    فریب شب کا گرفتار رہوں بچاؤ مجھے جلا کے شمع کوئی راستہ دکھاؤ مجھے زبان حال سے کہتی ہے یاد ماضی کی تمہاری راہ کی دیوار ہوں گراؤ مجھے کہاں ہوں دشت طلب میں مجھے پتا تو چلے مرا بھی نام پکارو کوئی بلاؤ مجھے میں نم زمین کا پودا ہوں سوکھ جاؤں گا سلگتی دھوپ کے صحرا میں مت لگاؤ ...

    مزید پڑھیے

    سراب دیکھتا ہوں میں کہ آب دیکھتا ہوں میں

    سراب دیکھتا ہوں میں کہ آب دیکھتا ہوں میں سمجھ میں جو نہ آ سکے وہ خواب دیکھتا ہوں میں لہوں میں تیرتی ہے کوئی شے تری امید سی اگا ہوا شفق میں آفتاب دیکھتا ہوں میں مری نظر کے سامنے ہے آئنہ رکھا ہوا تری نظر کا حسن انتخاب دیکھتا ہوں میں یہ کس مقام پر ہے آج رخش فکر و آگہی کہ جبرئیل کو ...

    مزید پڑھیے

    میں ترے شہر میں آیا تو ٹھہر جاؤں گا

    میں ترے شہر میں آیا تو ٹھہر جاؤں گا سایۂ ابر نہیں ہوں کہ گزر جاؤں گا جذبۂ دل کا وہ عالم ہے تو انشا اللہ درد بن کر ترے پہلو میں اتر جاؤں گا محض بیکار نہ سمجھیں مجھے دنیا والے زندگی ہے تو کوئی کام بھی کر جاؤں گا دے کے آواز تو دیکھے شب تاریک مجھے روشنی بن کے فضاؤں میں بکھر جاؤں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2