Mahendra Partap Chand

مہندر پرتاپ چاند

مہندر پرتاپ چاند کی غزل

    رنجشوں نے جذبۂ اخلاص گرمایا بھی ہے

    رنجشوں نے جذبۂ اخلاص گرمایا بھی ہے دوستی میں ہم نے کچھ کھویا ہے کچھ پایا بھی ہے اک ذرا سی بات پر کیوں کر تعلق توڑ دوں وہ پرانا یار بھی ہے میرا ہمسایہ بھی ہے اس طرف دیکھا تو ہے بے شک حقارت سے سہی شکر ہے اتنا کرم تو اس نے فرمایا بھی ہے یوں تو کچھ قیمت نہیں جنس وفا کی ہاں مگر جس قدر ...

    مزید پڑھیے

    ترے خیال نے احسان لا جواب کیا

    ترے خیال نے احسان لا جواب کیا نفس نفس کو مرے وقف اضطراب کیا عدو کا حرف ملامت بنا مری شہرت اسی نے خاک کے ذرے کو آفتاب کیا تری نظر کو نظر لگ نہ جائے دنیا کی بھرے جہاں میں جو میرا ہی انتخاب کیا قدم قدم پہ رہی جستجوئے نام و نمود اسی ہوس نے ہمیں عمر بھر خراب کیا ازل کے دن سے اندھیرے ...

    مزید پڑھیے

    اشعار کی تخلیق میں جلتا ہے جگر کیوں

    اشعار کی تخلیق میں جلتا ہے جگر کیوں یا رب مجھے بخشا ہے یہ جاں سوز ہنر کیوں غم عشق کی سوغات ہے سینے سے لگا لے پھولوں کی تمنا ہے تو کانٹوں سے حذر کیوں کچھ حد سے سوا ہیں مرے غم خوار وگرنہ رہتی ہے مرے حال پہ یاروں کی نظر کیوں کل جس کو سر آنکھوں پر بٹھاتا تھا زمانہ بیٹھا ہے سر راہ وہ ...

    مزید پڑھیے

    زباں کا پاس ہے تو قول سب نبھانے ہیں

    زباں کا پاس ہے تو قول سب نبھانے ہیں اگر مکرنے پہ آؤں تو سو بہانے ہیں تیر نگاہ کے رستے سبھی نئے ہیں مگر ہمارے طور طریقے سبھی پرائے ہیں نہ راس آئی ہمیں آپ کی ادا کوئی ستم ہے اس پہ کہ ہم آپ کے دوانے ہیں یہ کیا کہ حوصلہ تم نے ابھی سے ہار دیا ابھی تو وقت نے کچھ اور گل کھلانے ہیں سیاہ ...

    مزید پڑھیے

    ہمارے شہر ادب میں چلی ہوا کیا ہے

    ہمارے شہر ادب میں چلی ہوا کیا ہے یہ کیسا دور ہے یا رب ہمیں ہوا کیا ہے اسی نے آگ لگائی ہے ساری بستی میں وہی یہ پوچھ رہا ہے کہ ماجرا کیا ہے یہ تیرا ظرف کہ تو پھر بھی بد گماں نہ ہوا سوائے درد کے میں نے تجھے دیا کیا ہے لپک کے چھین لے حق اپنا کم سوادوں سے بڑھا کے ہاتھ اٹھا جام دیکھتا ...

    مزید پڑھیے

    دھو گئی چہروں سے گرد یاس کا غازہ ہوا

    دھو گئی چہروں سے گرد یاس کا غازہ ہوا کر گئی افسردہ روحوں کو تر و تازہ ہوا لاکھ بیٹھوں چھپ کر اپنے بند کمروں میں مگر توڑ کر آ جائے گی ایک ایک دروازہ ہوا صبح آنچل کی ہوا دے کر کھلاتی ہے جسے شب کو بکھراتی ہے خود اس گل کا شیرازہ ہوا بھر چلے تھے زخم جو پھر سے لگے منہ کھولنے کچھ پرانے ...

    مزید پڑھیے

    اک لفظ محبت کے بنے لاکھ فسانے

    اک لفظ محبت کے بنے لاکھ فسانے تہمت کے بہانے کبھی شہرت کے بہانے کس کو یہ خبر تھی کہ بکھر جائیں گے پل میں آنکھوں نے سجا رکھے تھے جو خواب سہانے اک زخم جدائی ہے کہ ناسور بنا ہے کرتا ہوں تجھے یاد اسی غم کے بہانے اقدار کا فقدان ہوس ناکی و وحشت سب پردے ہٹا رکھے ہیں اب شرم و حیا نے فرقت ...

    مزید پڑھیے

    میں نے کب اپنی وفاؤں کا صلہ مانگا تھا

    میں نے کب اپنی وفاؤں کا صلہ مانگا تھا اک تبسم ہی ترا بہر خدا مانگا تھا کیا خبر تھی کہ مری نیند ہی اجڑ جائیں گی میں نے کھوئے ہوئے خوابوں کا پتا مانگا تھا دست گلچیں نے بھی گلشن سے وہی پھول چنا میں نے جس گل کے لیے دست صبا مانگا تھا شدت غم میں دعا کی تھی تجھے بھولنے کی اب بھرے زخم تو ...

    مزید پڑھیے

    بے اختیار ہم جو سر بزم رو دئے

    بے اختیار ہم جو سر بزم رو دئے کتنے سنہرے خواب ان آنکھوں نے کھو دئے تنہائیوں کی دھوپ میں یادوں کی یہ پھوار جیسے کسی نے دل کے سبھی زخم دھو دئے پھر آج کیوں ہوائیں یہ سہمی ہوئی سی ہیں کس نے یہ پھر فضاؤں میں نشتر چبھو دئے اے دوست کچھ تو بات کا مفہوم بھی بتا لفظوں کے ہار تو نے بہت اب ...

    مزید پڑھیے

    فریب نو کے بھنور میں اتارتا ہے مجھے

    فریب نو کے بھنور میں اتارتا ہے مجھے یہ کون پچھلے پہر پھر پکارتا ہے مجھے شکستہ حال ہوں رنج و الم سے چور ہوں میں نگاہ لطف سے اب کیا سنوارتا ہے مجھے نظر یہ اپنی چڑھاتا ہوں جس قدر اس کو اسی قدر وہ نظر سے اتارتا ہے مجھے میں کب کا ڈوب چکا ہوں اسے خبر ہی نہیں جو ساحلوں سے ابھی تک پکارتا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2