جذبۂ شوق کو اس طور ابھارا جائے
جذبۂ شوق کو اس طور ابھارا جائے ہم جدھر جائیں ادھر ان کا نظارا جائے آپسی رشتوں کی خوشبو کو کوئی نام نہ دو اس تقدس کو نہ کاغذ پر اتارا جائے سیکڑوں نام ترے اور ہیں بے نام بھی تو کون سے نام سے اب تجھ کو پکارا جائے رقص کرتی ہے لہکتی ہے عجب مستی میں کشتئ دل کے بھنور میں جو اتارا ...