Mahendra Partap Chand

مہندر پرتاپ چاند

مہندر پرتاپ چاند کی غزل

    جذبۂ شوق کو اس طور ابھارا جائے

    جذبۂ شوق کو اس طور ابھارا جائے ہم جدھر جائیں ادھر ان کا نظارا جائے آپسی رشتوں کی خوشبو کو کوئی نام نہ دو اس تقدس کو نہ کاغذ پر اتارا جائے سیکڑوں نام ترے اور ہیں بے نام بھی تو کون سے نام سے اب تجھ کو پکارا جائے رقص کرتی ہے لہکتی ہے عجب مستی میں کشتئ دل کے بھنور میں جو اتارا ...

    مزید پڑھیے

    مجبوری لاچاری لکھ

    مجبوری لاچاری لکھ ہاں روداد ہماری لکھ غیروں کو الزام نہ دے اپنوں کی عیاری لکھ سوچ جو ہلکی ہے تو کیا غزلیں بھاری بھاری لکھ عیب نہ گنوا اوروں کے اپنی کارگزاری لکھ پہلے جھوٹے وعدے کر پھر اپنی لاچاری لکھ چاہے حقیقت کچھ بھی ہو اپنا پلڑا بھاری لکھ اجڑے گھر کے آنگن میں ہری بھری ...

    مزید پڑھیے

    چلچلاتی دھوپ منزل دور تنہا راستے

    چلچلاتی دھوپ منزل دور تنہا راستے دیکھتے ہیں ہم فقیروں کا تماشا راستے مصلحت آمیز ہے رسم وفا بھی آج کل دوستی کی آڑ میں نکلے ہیں کیا کیا راستے شرط ہے عزم جواں ذوق سفر ترک مقام منزلیں بڑھ کر کریں گی خود ہی پیدا راستے ہو رہی ہے آج پھر محسوس یادوں کی چبھن ڈس رہے ہیں آج پھر مجھ کو یہ ...

    مزید پڑھیے

    جو نیکیوں سے بدی کا جواب دیتا ہے

    جو نیکیوں سے بدی کا جواب دیتا ہے خدا بھی اس کو صلہ بے حساب دیتا ہے اسی کے حکم سے گھر بار اجڑ بھی جاتے ہیں وہی پھر ان کو بسانے کے خواب دیتا ہے بشر پہ قرض جو ہوتے ہیں کار ہائے جہاں تمام عمر وہ ان کا حساب دیتا ہے غرض یہ ہے نہ ہو فکر و عمل میں کوتاہی خدا دلوں کو اگر اضطراب دیتا ...

    مزید پڑھیے

    طریق عشق میں برباد ہونا پڑتا ہے

    طریق عشق میں برباد ہونا پڑتا ہے گلوں کی چاہ میں کانٹوں پہ سونا پڑتا ہے بس ایک لمحۂ راز و نیاز کی خاطر بشر کو مدتوں چھپ چھپ کے رونا پڑتا ہے ضمیر بیچ کے منصب تو مل ہی جائے گا وقار پہلے مگر اس میں کھونا پڑتا ہے ہے بد لحاظ یہ دنیا کوئی کہاں جائے قدم قدم پہ یہاں خوار ہونا پڑتا ہے یہ ...

    مزید پڑھیے

    روز و شب اور نئے ارض و سما مانگے ہے

    روز و شب اور نئے ارض و سما مانگے ہے آج کا دور نئی آب و ہوا مانگے ہے اپنی بے چارگی کی یوں تو ہے احساس بہت پھر بھی دل تجھ سے وہی عہد وفا مانگے ہے دھوپ میں جھلسی ہوئی شاخ پہ افسردہ کلی پھول بننے کے لیے دست صبا مانگے ہے ہر کوئی یوں تو ہے بر گشتۂ حالات مگر ہر کوئی جینے کی ہر لحظہ دعا ...

    مزید پڑھیے

    جچا نہ کچھ بھی نگاہوں کو منتہا کے سوا

    جچا نہ کچھ بھی نگاہوں کو منتہا کے سوا جھکا یہ سر نہ کہیں ان کے نقش پا کے سوا ہزار منتیں کیں لاکھ ہاتھ پھیلائے ملا نہ کچھ بھی مگر زخم التجا کے سوا سوائے اس کے نہیں اور کچھ بھی پاس مرے تجھے میں دوں بھی تو کیا دوست اب دعا کے سوا یہی ہوس ہے کہ سارا جہاں ہو زیر نگیں جہاں میں کچھ بھی ...

    مزید پڑھیے

    کچھ اب کے برس اور ہواؤں کا چلن ہے

    کچھ اب کے برس اور ہواؤں کا چلن ہے بوجھل ہے فضا وقت کے ماتھے پہ شکن ہے دیتی ہیں دھواں اب بھی سلگتی ہوئی شامیں ماحول پہ چھائی ہوئی ویسی ہی گھٹن ہے ابھری ہے پھر اک ڈوبتے منظر کی کوئی یاد سنگیت کی لے ہے کہ یہ سورج کی کرن ہے نکھرا ہے ترا روپ مرے شعروں میں ڈھل کر سنورا ہوا میرا بھی ہر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2