بے اختیار ہم جو سر بزم رو دئے
بے اختیار ہم جو سر بزم رو دئے
کتنے سنہرے خواب ان آنکھوں نے کھو دئے
تنہائیوں کی دھوپ میں یادوں کی یہ پھوار
جیسے کسی نے دل کے سبھی زخم دھو دئے
پھر آج کیوں ہوائیں یہ سہمی ہوئی سی ہیں
کس نے یہ پھر فضاؤں میں نشتر چبھو دئے
اے دوست کچھ تو بات کا مفہوم بھی بتا
لفظوں کے ہار تو نے بہت اب پرو دئے
شاید تری وفاؤں میں کوئی کمی ہوئی
اے چاندؔ تو نے یار پرانے جو کھو دئے