Mah Laqa Chanda

ماہ لقا چندا

ماہ لقا چندا کی غزل

    نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب

    نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب رکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلب یہ دل دام نگہ میں ترک کے بس جا ہی اٹکا ہے بر آوے کس طرح اللہ اب خوں خوار سے مطلب بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب نہ سمجھا ہم کو تو نے یار ایسی جاں فشانی ...

    مزید پڑھیے

    تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو

    تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو لگ چلنا ایسے دیسوں سے دستور مت کرو ٹسوے بہا کے ہر گھڑی زاری نہیں ہے خوب یہ راز عشق ہے اسے مشہور مت کرو ہر چند دل دکھانا کسی کا برا ہے پر رنجیدہ خاطروں کو تو رنجور مت کرو اے ہمدمو جو مجھ سے ہے منظور اختلاط جز ذکر یار تم کوئی مذکور مت کرو روشن ...

    مزید پڑھیے

    گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے

    گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے ہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہے کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوف خزاں بلبل اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے تیر و شمشیر سے بڑھ کر ہے تری ترچھی نگاہ سیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے تیرے رخسار سے تشبیہ اسے دوں کیوں کر شمع تو چربی کو آنکھوں میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2