Mah Laqa Chanda

ماہ لقا چندا

ماہ لقا چندا کی غزل

    ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخ

    ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخ خدا کے واسطے ہم سے نہ ہو صنم گستاخ چھپایا راز محبت کو دل میں پر ہیہات کرے ہے نام مرا بد یہ چشم نم گستاخ جو آوے جی میں سو کہہ لے میں ہوں وہ اے پیارے رہوں ہزار حضوری میں پر ہوں کم گستاخ کہا گلے سے لگا لے تو التفات نہیں کہے ہے تس پہ مجھے کیوں تو ...

    مزید پڑھیے

    بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے

    بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے خدا کے فضل سے عیش و طرب کی اب کمی کیا ہے بیاں میں کیا کروں اس کے شبستاں کا تعالی اللہ قضا و قدر جس کے جشن کا اب کار فرما ہے سخاوت میں کوئی ہم سر نہ ہو اس کا زمانہ میں وہی کرتا ہے پورا جس کے دل میں جو ارادہ ہے خضر کی عمر ہو اس کی تصدق سے ائمہ ...

    مزید پڑھیے

    عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا

    عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا میری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھنا ناداں سے ایک عمر رہا مجھ کو ربط عشق دانا سے اب پڑا ہے سروکار دیکھنا گردش سے تیری چشم کے مدت سے ہوں خراب تس پر کرے ہے مجھ سے یہ اقرار دیکھنا ناصح عبث کرے ہے منع مجھ کو عشق سے آ جائے وہ نظر تو پھر انکار ...

    مزید پڑھیے

    رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظ

    رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظ ہوا نہ آہ کا اپنے کبھی اثر محظوظ دریغ چشم کرم سے نہ رکھ کہ اے ظالم کرے ہے دل کو مرے تیری یک نظر محظوظ نہ بار بار ہوس ہو نبات کی مجھ کو رکھے جو ایک ہی بوسہ میں لب شکر محظوظ تماشہ ایک خدائی کا ہم دکھاتے ہیں تو کیجئے بندہ نوازی ہوئے ہو مگر محظوظ یہی ...

    مزید پڑھیے

    ساقی ہے گرچہ بے شمار شراب

    ساقی ہے گرچہ بے شمار شراب نہیں خوش تر سوائے یار شراب قتل پر کس کے آج ہوتی ہے توسن حسن پر سوار شراب رکھ کرم پر ترے نظر مجرم نوش کرتے ہیں بے شمار شراب ان کو آنکھیں دکھا دے ٹک ساقی چاہتے ہیں جو بار بار شراب یا علی حشر میں دو چنداؔ کو آب کوثر کی خوش گوار شراب

    مزید پڑھیے

    دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوب

    دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوب پھولا ہے کیا ہی جوش سے یہ لالہ زار خوب کب تک رہوں حجاب میں محروم وصل سے جی میں ہے کیجے پیار سے بوس و کنار خوب ساقی لگا کے برف میں مے کی صراحی لا آنکھوں میں چھا رہا ہے نشہ کا خمار خوب آیا نہ ایک دن بھی تو وعدہ پہ رات کو اچھا کیا سلوک تغافل شعار ...

    مزید پڑھیے

    رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزا

    رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزا گل افشاں ہے کرم تیرا چمن میں دہر کے ہر جا نہ پوچھو کوئی عیش و خرمی کو عہد میں اس کے کہ جس کے فیض سے گھر گھر ہے دور ساغر صہبا ارسطو جاہ وہ فرخ نژاد اہل عالم ہے کہ جس کے فضل و بخشش کا جہاں میں ہے علم برپا دعا ہے یہ موالی کی تصدق سے ائمہ کے رکھے ...

    مزید پڑھیے

    گرچہ گل کی سیج ہو تس پر بھی اڑ جاتی ہے نیند

    گرچہ گل کی سیج ہو تس پر بھی اڑ جاتی ہے نیند سر رکھوں قدموں پہ جب تیرے مجھے آتی ہے نیند دیکھ سکتا ہی نہیں آنکھوں سے ٹک آنکھیں ملا منتظر سے مثل نرگس تیرے شرماتی ہے نیند جب سے یہ مژگاں ہوئے در پر ترے جاروب کش روبرو تب سے مری آنکھوں کے ٹل جاتی ہے نیند دھیان میں گل رو کے چین آتا نہیں ...

    مزید پڑھیے

    رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیض

    رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیض دامن میں لیا اپنے ہے دریا نے گہر فیض پر نور عجب کیا ہے کرے مجھ کو کرم سے رکھتی ہے دو عالم پہ تری ایک نظر فیض اک جام پہ بخشے ہے یہاں رتبہ جسم کو کس کی نگہ مست سے رکھتا ہے خمر فیض محروم نہیں کوئی ترے خوان کرم سے ہے حصر خدائی کا ہی تجھ پہ مگر ...

    مزید پڑھیے

    دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آج

    دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آج کوئی دلبر بے مثال آتا ہے آج کیوں پڑا بے ہوش اٹھ ہاتف سے اب ہے ندا صاحب جمال آتا ہے آج سنگ رہ ہوں ایک ٹھوکر کے لیے تس پہ وہ دامن سنبھال آتا ہے آج مشتری و زہرہ باہم سعد ہیں اس لیے ابرو ہلال آتا ہے آج تم سوا چنداؔ کے دل میں یا علی کس کی عظمت کا جلال آتا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2