Mah Laqa Chanda

ماہ لقا چندا

ماہ لقا چندا کے تمام مواد

13 غزل (Ghazal)

    ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخ

    ہوئے جناب میں اب تک نہ تیرے ہم گستاخ خدا کے واسطے ہم سے نہ ہو صنم گستاخ چھپایا راز محبت کو دل میں پر ہیہات کرے ہے نام مرا بد یہ چشم نم گستاخ جو آوے جی میں سو کہہ لے میں ہوں وہ اے پیارے رہوں ہزار حضوری میں پر ہوں کم گستاخ کہا گلے سے لگا لے تو التفات نہیں کہے ہے تس پہ مجھے کیوں تو ...

    مزید پڑھیے

    بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے

    بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے خدا کے فضل سے عیش و طرب کی اب کمی کیا ہے بیاں میں کیا کروں اس کے شبستاں کا تعالی اللہ قضا و قدر جس کے جشن کا اب کار فرما ہے سخاوت میں کوئی ہم سر نہ ہو اس کا زمانہ میں وہی کرتا ہے پورا جس کے دل میں جو ارادہ ہے خضر کی عمر ہو اس کی تصدق سے ائمہ ...

    مزید پڑھیے

    عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا

    عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا میری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھنا ناداں سے ایک عمر رہا مجھ کو ربط عشق دانا سے اب پڑا ہے سروکار دیکھنا گردش سے تیری چشم کے مدت سے ہوں خراب تس پر کرے ہے مجھ سے یہ اقرار دیکھنا ناصح عبث کرے ہے منع مجھ کو عشق سے آ جائے وہ نظر تو پھر انکار ...

    مزید پڑھیے

    رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظ

    رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظ ہوا نہ آہ کا اپنے کبھی اثر محظوظ دریغ چشم کرم سے نہ رکھ کہ اے ظالم کرے ہے دل کو مرے تیری یک نظر محظوظ نہ بار بار ہوس ہو نبات کی مجھ کو رکھے جو ایک ہی بوسہ میں لب شکر محظوظ تماشہ ایک خدائی کا ہم دکھاتے ہیں تو کیجئے بندہ نوازی ہوئے ہو مگر محظوظ یہی ...

    مزید پڑھیے

    ساقی ہے گرچہ بے شمار شراب

    ساقی ہے گرچہ بے شمار شراب نہیں خوش تر سوائے یار شراب قتل پر کس کے آج ہوتی ہے توسن حسن پر سوار شراب رکھ کرم پر ترے نظر مجرم نوش کرتے ہیں بے شمار شراب ان کو آنکھیں دکھا دے ٹک ساقی چاہتے ہیں جو بار بار شراب یا علی حشر میں دو چنداؔ کو آب کوثر کی خوش گوار شراب

    مزید پڑھیے

تمام