Madhav Awana

مادھو اوانہ

مادھو اوانہ کی نظم

    جرم

    کھلی آنکھ سے دیکھ لیے خواب پینسٹھ سال اور اب میں جاگ جانے کو کہوں تو جرم اب میں چپ رہوں تو گناہ کچھ کہوں تو جرم سہوں تو اپنی نظروں سے گرا نہ سہوں تو جرم کھیل سیاست کے ہیں یہ لاشیں یہ جلتی بستیاں چپ رہوں تو غدار وطن کا سچ کہوں تو جرم فرق کبھی ختم نہیں ہوگا محل اور جھونپڑی کا اگر وہ ...

    مزید پڑھیے

    خاموشی

    سب کچھ بدل رہا ہے سینہ میں کچھ جل رہا ہے اب ڈگمگا رہا ہے ارادہ اور میں خاموش ہوں مجھ سے زیادہ بے چینی زمانے میں مچی ہے آخر یہ نئی روایتیں کس نے رچی ہیں حاضر ہے ضمیر کے سامنے ہلچل سے کچھ زیادہ، اور میں خاموش ہوں رشتے درک رہے ہیں خود غرضی کے ناگ سرک رہے ہیں دیکھیں میں ڈسا جاتا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    بغاوت

    بڑا آسان ہے میرے لیے میں آزادی کے گیت گاؤں اور سڑکوں پر جلسے سجا انقلاب کے نعرے لگاؤں بڑا آسان ہے میرے لیے میں کسی پر ظلم ہوتا پاؤں تو آنکھوں والا اندھا ہو جاؤں بڑا آسان ہے میرے لیے سیاستدانوں پر جھلاؤں اور کچھ کرنے کے نام پر اپنی مجبوریاں گناؤں بڑا آسان ہے میرے لیے کہ میں زندہ ...

    مزید پڑھیے

    چبھتے خواب

    خواب ہی تو ملے ہیں ہمیں روٹی کے خواب تعلیم کے خواب حکمرانوں نے دکھائے آزادی کے بعد نئی تنظیم کے خواب پینسٹھ سال کے بعد بھی ہم کرتے ہیں ان کی قدم بوسی حکمرانوں نے کیا گھول کر دئے ہیں اس یقیں کے خواب نا سڑک نا بجلی نا پانی نا روزگار ہے میسر ملک کے اکیسویں صدی میں پہنچنے کے یہ حسین سے ...

    مزید پڑھیے

    لاپتہ

    اونچی اونچی عمارتوں میں میرے حصے کا آسمان لاپتہ مصروف سے اس شہر میں جسم تو ہیں انسان لاپتہ سنتے تھے کبھی ملا کرتے تھے جہاں دل کے بدلے دل تیرے اس شہر میں اب عشق کی ہے وہ دکان لاپتہ اس شہر میں بت کدے بھی ہیں اور مسجدیں بھی تمام انسان کی فطرت دیکھ کر ہوئے ہیں بھگوان لاپتہ واہ ری ...

    مزید پڑھیے

    کچھ نہیں بدلنے والا

    پھر وہی ماحول وہی شور شرابہ وہی کچھ نئے پرانے چہروں کا بول بالا پھر سے سج گئی تبدیلیوں کی منڈیاں پر اصل میں کچھ نہیں بدلنے والا پھر چیختے پھر رہے بد حواس چہرہ پھر رچے جانیں لگیں ہیں سڈینتر گہرے پھر سے گونجنے لگیں ہیں فضاؤں میں نعرے پچھلگو بن گئے ہیں کچھ بھوک کے مارے پھر سے یہ ...

    مزید پڑھیے

    لوک تنتر کا راجا

    ہمارا راجہ اندھا اور بہرا راجہ اپنی بنائی رتوندھی میں مست ہے نہ دیکھ سکتا ہے نہ سن سکتا ہے جڑ پتھر سا کہ ہمیں کیا کشٹ ہے پر راجا نہ جانیں کہاں سے پتا کرتا محسوس کر لیتا کہ جنتا کی جیب میں ہے پیسے مہنگائی بڑھا کر ٹیکس لگا کر ہزار کرور سے بہانے بنا کر نکلوا لیتا ہے کیسے نہ کیسے راجہ ...

    مزید پڑھیے

    سرکار سو رہی ہے

    مت شکایت کرو کہ سرکار سو رہی ہے زباں پے لگام رکھو کہ سرکار سو رہی ہے مہنگائی نے بے شک جینا محال کیا ہے دل کی دل میں رکھو کہ سرکار سو رہی ہے مت لگاؤ نعرے نہ اترو سڑک پر جیل جاؤ گے پٹوگے ڈرو کہ سرکار سو رہی ہے روز دام بڑھاتی ہے شاید حکم ملا ہے کہیں سے جلدی جیب ڈھیلی کرو کہ سرکار سو رہی ...

    مزید پڑھیے

    میں بھی مسیحا ہوں

    نام بے شک آم آدمی ہو پر میں تو مسیحا ہوں کاندھے پر اپنے کرموں کی صلیب دور سے تماشائی میرے حبیب میرے رشتے میرے فرض میرا بیتے وقت کی پرچھائیاں سب مجھ پر کوڑے برساتے لے جا رہیں ہیں اجنبی سے مقام پر لعنتیں برساتے میرے نام پر مجھے روز دھکیاتے اور اس پر مجبوری کہ مجھے خاموش رہنا ہے سب ...

    مزید پڑھیے

    ہمارا فرض

    دیکھ کر کسی کا دیش کے لئے اپواس ہم نیتاؤں کا اڑاتے ہیں اپہاس اور دیتے ہیں گالیاں بس ہمارا فرض پورا جب بھی ہوتا ہے کوئی آندولن ہم یار دوستوں کا کر کے سمیلن نگاہ سرکار پہ ڈالتے ہیں سوالیہ بس ہمارا فرض پورا دیش جاتا ہے جہاں جائے نیتا چاہے جیسے بھی دیش کو چلائیں ہم ڈیوٹی کر دیتے ہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2