Madhav Awana

مادھو اوانہ

مادھو اوانہ کے تمام مواد

11 نظم (Nazm)

    جرم

    کھلی آنکھ سے دیکھ لیے خواب پینسٹھ سال اور اب میں جاگ جانے کو کہوں تو جرم اب میں چپ رہوں تو گناہ کچھ کہوں تو جرم سہوں تو اپنی نظروں سے گرا نہ سہوں تو جرم کھیل سیاست کے ہیں یہ لاشیں یہ جلتی بستیاں چپ رہوں تو غدار وطن کا سچ کہوں تو جرم فرق کبھی ختم نہیں ہوگا محل اور جھونپڑی کا اگر وہ ...

    مزید پڑھیے

    خاموشی

    سب کچھ بدل رہا ہے سینہ میں کچھ جل رہا ہے اب ڈگمگا رہا ہے ارادہ اور میں خاموش ہوں مجھ سے زیادہ بے چینی زمانے میں مچی ہے آخر یہ نئی روایتیں کس نے رچی ہیں حاضر ہے ضمیر کے سامنے ہلچل سے کچھ زیادہ، اور میں خاموش ہوں رشتے درک رہے ہیں خود غرضی کے ناگ سرک رہے ہیں دیکھیں میں ڈسا جاتا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    بغاوت

    بڑا آسان ہے میرے لیے میں آزادی کے گیت گاؤں اور سڑکوں پر جلسے سجا انقلاب کے نعرے لگاؤں بڑا آسان ہے میرے لیے میں کسی پر ظلم ہوتا پاؤں تو آنکھوں والا اندھا ہو جاؤں بڑا آسان ہے میرے لیے سیاستدانوں پر جھلاؤں اور کچھ کرنے کے نام پر اپنی مجبوریاں گناؤں بڑا آسان ہے میرے لیے کہ میں زندہ ...

    مزید پڑھیے

    چبھتے خواب

    خواب ہی تو ملے ہیں ہمیں روٹی کے خواب تعلیم کے خواب حکمرانوں نے دکھائے آزادی کے بعد نئی تنظیم کے خواب پینسٹھ سال کے بعد بھی ہم کرتے ہیں ان کی قدم بوسی حکمرانوں نے کیا گھول کر دئے ہیں اس یقیں کے خواب نا سڑک نا بجلی نا پانی نا روزگار ہے میسر ملک کے اکیسویں صدی میں پہنچنے کے یہ حسین سے ...

    مزید پڑھیے

    لاپتہ

    اونچی اونچی عمارتوں میں میرے حصے کا آسمان لاپتہ مصروف سے اس شہر میں جسم تو ہیں انسان لاپتہ سنتے تھے کبھی ملا کرتے تھے جہاں دل کے بدلے دل تیرے اس شہر میں اب عشق کی ہے وہ دکان لاپتہ اس شہر میں بت کدے بھی ہیں اور مسجدیں بھی تمام انسان کی فطرت دیکھ کر ہوئے ہیں بھگوان لاپتہ واہ ری ...

    مزید پڑھیے

تمام