معاذ عائذ کی غزل

    میں نے لاکھ دیکھے ستم مگر یہ ترا ستم تو عجیب ہے

    میں نے لاکھ دیکھے ستم مگر یہ ترا ستم تو عجیب ہے کبھی پاس ہو کے بھی دور ہے کبھی دور ہو کے قریب ہے میں بگڑ گیا تری اک نظر سے وگرنہ مجھ کو تو دیکھ کر یہ گلی کی عورتیں بولتیں اسے دیکھو کیسا نجیب ہے تو ہو سامنے تو بھی بے خودی نہ ہو سامنے تو بھی دل جلے مرے کس گنہ کی سزا یہ دی کہ طپیدگی ہی ...

    مزید پڑھیے

    ذرا انداز قضا اب کے کڑا لگتا ہے

    ذرا انداز قضا اب کے کڑا لگتا ہے وہ نیا یار مرا شوخ بڑا لگتا ہے کبھی ہم درد کبھی درد فزا لگتا ہے وہ ستم گر ہے مگر ہوش ربا لگتا ہے بے نیازی تو ہے دستور حسیناں لیکن وہ حسیں ہو کے حسینوں سے جدا لگتا ہے کبھی دیدار کرائے کبھی باتیں کر لے کبھی گفتار سے خود مجھ پہ فدا لگتا ہے کبھی پیکان ...

    مزید پڑھیے

    جب تجھ سے ملا ہوں تو تجھے یار کہا ہے

    جب تجھ سے ملا ہوں تو تجھے یار کہا ہے جب مل نہ سکا ہوں تو دل آزار کہا ہے تو نور نظر جان جگر رشک قمر ہے او روح تغزل تجھے گلنار کہا ہے دیکھا جو تناسب ترے اعضائے بدن کا ہر عضو کو گل خود تجھے گلزار کہا ہے اب تک تری باتوں کی حلاوت نہیں جاتی جو تو نے کہا میں نے وہ سو بار کہا ہے پوچھی مری ...

    مزید پڑھیے