میں نے لاکھ دیکھے ستم مگر یہ ترا ستم تو عجیب ہے
میں نے لاکھ دیکھے ستم مگر یہ ترا ستم تو عجیب ہے کبھی پاس ہو کے بھی دور ہے کبھی دور ہو کے قریب ہے میں بگڑ گیا تری اک نظر سے وگرنہ مجھ کو تو دیکھ کر یہ گلی کی عورتیں بولتیں اسے دیکھو کیسا نجیب ہے تو ہو سامنے تو بھی بے خودی نہ ہو سامنے تو بھی دل جلے مرے کس گنہ کی سزا یہ دی کہ طپیدگی ہی ...