ذرا انداز قضا اب کے کڑا لگتا ہے
ذرا انداز قضا اب کے کڑا لگتا ہے
وہ نیا یار مرا شوخ بڑا لگتا ہے
کبھی ہم درد کبھی درد فزا لگتا ہے
وہ ستم گر ہے مگر ہوش ربا لگتا ہے
بے نیازی تو ہے دستور حسیناں لیکن
وہ حسیں ہو کے حسینوں سے جدا لگتا ہے
کبھی دیدار کرائے کبھی باتیں کر لے
کبھی گفتار سے خود مجھ پہ فدا لگتا ہے
کبھی پیکان نظر سے مجھے گھائل کر دے
کبھی نظروں سے سراپائے حیا لگتا ہے
کبھی قربان لگے طرز تکلم سے وہ
کبھی میں بات کروں تو بھی خفا لگتا ہے
سبب ظلمت دل بھی ہیں اسی کی یادیں
مرے دل کا وہی ضو ریز دیا لگتا ہے
میں نے ہر بار محبت میں جفا پائی ہے
مگر اس بار وہ پابند وفا لگتا ہے
یہ مری خام خیالی ہے حقیقت یہ ہے
وہ بھی قاتل ہے فقط وار نیا لگتا ہے
یہی اب رائے خرد ہے کہ بھلا دوں اس کو
جو کہ افکار و تخیل میں بسا لگتا ہے
وہی انجام ہوا جس سے ہراساں تھا دل
دل مجروح کا ہر زخم کھلا لگتا ہے