Latif Shah Shahid

لطیف شاہ شاہد

لطیف شاہ شاہد کی غزل

    تیری صورت سے آشنا ہوں میں

    تیری صورت سے آشنا ہوں میں یوں ہی پاگل نہیں ہوا ہوں میں دم بہ دم مجھ کو آزماتے ہو ایک دنیا میں کیا بچا ہوں میں اجنبی ہے وہ خوبرو لیکن لگ رہا ہے کہ جانتا ہوں میں ناگ ڈستا تو مر نہ جاتا میں ہائے اس زلف کا ڈسا ہوں میں تیری دنیا میں کیوں رہوں اب جب تیری محفل سے اٹھ چکا ہوں میں چھاچھ ...

    مزید پڑھیے

    دل اپنا شب ہجر میں رات بھر

    دل اپنا شب ہجر میں رات بھر لٹکتا رہا درد کے دار پر چھٹی تیری چوکھٹ چھٹا اپنا گھر محبت میں یوں ہو گئے در بدر کبھی ہو ہی جائیں گے غم سے رہا کبھی مل ہی جائے گی اپنی خبر تغافل سے بڑھتی ہیں رسوائیاں ذرا ہم پہ بھی ڈالیے اک نظر ہوا اپنے ہی ہاتھ سے اپنا خوں ہوا عشق کا معرکہ خوب سر محبت ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے رشتہ نہ کوئی خاص شناسائی ہے

    تجھ سے رشتہ نہ کوئی خاص شناسائی ہے پھر بھی اک عمر سے دل تیرا تمنائی ہے اب کے امید وفا باندھ رہا ہوں جس سے لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص بھی ہرجائی ہے دل کی ہر بات سے انکار بھی نا ممکن ہے مان لینے میں بھی اندیشۂ رسوائی ہے خود ہی وہ درد بنا خود ہی دوا بن بیٹھا خوب اس شخص کا انداز مسیحائی ...

    مزید پڑھیے