دل اپنا شب ہجر میں رات بھر

دل اپنا شب ہجر میں رات بھر
لٹکتا رہا درد کے دار پر


چھٹی تیری چوکھٹ چھٹا اپنا گھر
محبت میں یوں ہو گئے در بدر


کبھی ہو ہی جائیں گے غم سے رہا
کبھی مل ہی جائے گی اپنی خبر


تغافل سے بڑھتی ہیں رسوائیاں
ذرا ہم پہ بھی ڈالیے اک نظر


ہوا اپنے ہی ہاتھ سے اپنا خوں
ہوا عشق کا معرکہ خوب سر


محبت میں شاہدؔ کو راس آس کا
نہ گلشن نہ صحرا نہ مسجد نہ گھر