تجھ سے رشتہ نہ کوئی خاص شناسائی ہے
تجھ سے رشتہ نہ کوئی خاص شناسائی ہے
پھر بھی اک عمر سے دل تیرا تمنائی ہے
اب کے امید وفا باندھ رہا ہوں جس سے
لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص بھی ہرجائی ہے
دل کی ہر بات سے انکار بھی نا ممکن ہے
مان لینے میں بھی اندیشۂ رسوائی ہے
خود ہی وہ درد بنا خود ہی دوا بن بیٹھا
خوب اس شخص کا انداز مسیحائی ہے
اب کے یوں ٹوٹ کے بکھرا ہوں کسی کی خاطر
مجھ کو خود اپنے بکھرنے کی صدا آئی ہے
مانتا ہوں تری آنکھیں بھی ڈبو دیتی ہیں
لیکن اپنے بھی خیالات میں گہرائی ہے
جا بجا خاک پہ ٹوٹے ہوئے پر بکھرے ہیں
خوب بلبل نے چہکنے کی سزا پائی ہے
سن کے میری وہ جواں مرگ کا بولے شاہدؔ
کیا وہ شاعر جو مرے نام کا سودائی ہے