تیری صورت سے آشنا ہوں میں
تیری صورت سے آشنا ہوں میں یوں ہی پاگل نہیں ہوا ہوں میں دم بہ دم مجھ کو آزماتے ہو ایک دنیا میں کیا بچا ہوں میں اجنبی ہے وہ خوبرو لیکن لگ رہا ہے کہ جانتا ہوں میں ناگ ڈستا تو مر نہ جاتا میں ہائے اس زلف کا ڈسا ہوں میں تیری دنیا میں کیوں رہوں اب جب تیری محفل سے اٹھ چکا ہوں میں چھاچھ ...