Latif Shah Shahid

لطیف شاہ شاہد

لطیف شاہ شاہد کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    تیری صورت سے آشنا ہوں میں

    تیری صورت سے آشنا ہوں میں یوں ہی پاگل نہیں ہوا ہوں میں دم بہ دم مجھ کو آزماتے ہو ایک دنیا میں کیا بچا ہوں میں اجنبی ہے وہ خوبرو لیکن لگ رہا ہے کہ جانتا ہوں میں ناگ ڈستا تو مر نہ جاتا میں ہائے اس زلف کا ڈسا ہوں میں تیری دنیا میں کیوں رہوں اب جب تیری محفل سے اٹھ چکا ہوں میں چھاچھ ...

    مزید پڑھیے

    دل اپنا شب ہجر میں رات بھر

    دل اپنا شب ہجر میں رات بھر لٹکتا رہا درد کے دار پر چھٹی تیری چوکھٹ چھٹا اپنا گھر محبت میں یوں ہو گئے در بدر کبھی ہو ہی جائیں گے غم سے رہا کبھی مل ہی جائے گی اپنی خبر تغافل سے بڑھتی ہیں رسوائیاں ذرا ہم پہ بھی ڈالیے اک نظر ہوا اپنے ہی ہاتھ سے اپنا خوں ہوا عشق کا معرکہ خوب سر محبت ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے رشتہ نہ کوئی خاص شناسائی ہے

    تجھ سے رشتہ نہ کوئی خاص شناسائی ہے پھر بھی اک عمر سے دل تیرا تمنائی ہے اب کے امید وفا باندھ رہا ہوں جس سے لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص بھی ہرجائی ہے دل کی ہر بات سے انکار بھی نا ممکن ہے مان لینے میں بھی اندیشۂ رسوائی ہے خود ہی وہ درد بنا خود ہی دوا بن بیٹھا خوب اس شخص کا انداز مسیحائی ...

    مزید پڑھیے