Lateef Khan Mahfooz

لطیف خان محفوظ

لطیف خان محفوظ کی غزل

    تو ہی تو نہیں پگھل رہا ہے

    تو ہی تو نہیں پگھل رہا ہے اپنا بھی لباس جل رہا ہے میں چل بھی دیا ہوں تجھ سے مل کر تو ہی کہ ابھی سنبھل رہا ہے رونے کی تو کر رہا ہوں کوشش موسم ہی نہیں بدل رہا ہے دریا کے بدل رہے ہیں تیور موجوں کا بھی رخ بدل رہا ہے گھر اپنا ہے پھر یہ کیا ستم ہے کہ حکم کسی کا چل رہا ہے محفوظؔ دماغ آج ...

    مزید پڑھیے

    اک بار سامنا ہوا اور آنکھ لڑ گئی

    اک بار سامنا ہوا اور آنکھ لڑ گئی اتنی سی بات تھی مگر افسوس بڑھ گئی شرمائے وہ لجائے کبھی مسکرا دئے بیل اپنے پیار کی یوں ہی پروان چڑھ گئی پھر نامہ و پیام کا اک سلسلہ چھڑا آنگن میں ہم کھڑے تھے وہ کوٹھے پہ چڑھ گئی ہونے لگے اشارے جو ہر روز صبح و شام یہ دیکھ کے ہماری پڑوسن بگڑ گئی بس ...

    مزید پڑھیے