اک بار سامنا ہوا اور آنکھ لڑ گئی

اک بار سامنا ہوا اور آنکھ لڑ گئی
اتنی سی بات تھی مگر افسوس بڑھ گئی


شرمائے وہ لجائے کبھی مسکرا دئے
بیل اپنے پیار کی یوں ہی پروان چڑھ گئی


پھر نامہ و پیام کا اک سلسلہ چھڑا
آنگن میں ہم کھڑے تھے وہ کوٹھے پہ چڑھ گئی


ہونے لگے اشارے جو ہر روز صبح و شام
یہ دیکھ کے ہماری پڑوسن بگڑ گئی


بس بنتے بنتے رہ گیا محفوظؔ اپنا کام
راضی جو اس کا باپ ہوا ماں اکڑ گئی