Lateef Ahmad Subhani

لطیف احمد سبحانی

  • 1950

لطیف احمد سبحانی کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    جو بجھ گئے انہیں کو چراغوں کا نام دو

    جو بجھ گئے انہیں کو چراغوں کا نام دو بے چہرگی کو اپنی گلابوں کا نام دو جو ہے حقیقی اس کو تو اب بھول جاؤ تم بے جان پتھروں کو خداؤں کا نام دو ہمدردیاں خلوص و محبت کہ دوستی اس دور میں انہیں بھی گناہوں کا نام دو ہے وقت کا تقاضا بری حرکتوں کو تم جدت کہو حسین اداؤں کا نام دو دہشت گری ...

    مزید پڑھیے

    لگ گئے برسوں جوابات بتانے کے لئے

    لگ گئے برسوں جوابات بتانے کے لئے ان خرافات کو گھر گھر سے ہٹانے کے لئے کس قدر زہر پیا ضبط کیا ہے میں نے جو لگی آگ ہے سینے میں چھپانے کے لئے ایسے بھی لوگ بہت سارے ملیں گے تم کو ہر غلط کام کیا نام کمانے کے لئے خون دل خون جگر جان تلک نذر کیے کیا نہیں دے کے گئے لوگ زمانے کے لئے داؤ پر ...

    مزید پڑھیے

    عکس در عکس ہے چہروں کی نموداری سے

    عکس در عکس ہے چہروں کی نموداری سے آئنہ دیکھتے ہیں لوگ بھی بے زاری سے پھر بھی الزام کئی آ گئے سر پر اپنے میں گریزاں تو رہا وقت کی عیاری سے بغض ہے حرص ہے غیبت ہے ریا کاری ہے جس قدر بھی ہو رہو دور ہی بیماری سے بٹ کے رہ جاتا ہے انسان کئی حصوں میں مشغلے پیدا عجب ہوتے ہیں بیکاری سے بے ...

    مزید پڑھیے

    نہ کوئی خواب ہوگا اور نہ خوابوں کا جہاں ہوگا

    نہ کوئی خواب ہوگا اور نہ خوابوں کا جہاں ہوگا کوئی دل میں نہیں ہوگا تو دل خالی مکاں ہوگا بہت ہی سوچ کر تو کشتیٔ عمر رواں کو ڈال مقابل میں تلاطم خیز بحر بیکراں ہوگا نہیں ہے دور وہ منظر جسے دیکھے گا یہ عالم مسلماں اک طرف اور اک طرف سارا جہاں ہوگا یہ دور پر فتن ہے بوجھ اپنا خود ...

    مزید پڑھیے