لگ گئے برسوں جوابات بتانے کے لئے
لگ گئے برسوں جوابات بتانے کے لئے
ان خرافات کو گھر گھر سے ہٹانے کے لئے
کس قدر زہر پیا ضبط کیا ہے میں نے
جو لگی آگ ہے سینے میں چھپانے کے لئے
ایسے بھی لوگ بہت سارے ملیں گے تم کو
ہر غلط کام کیا نام کمانے کے لئے
خون دل خون جگر جان تلک نذر کیے
کیا نہیں دے کے گئے لوگ زمانے کے لئے
داؤ پر لوگ لگا دیتے ہیں ہر شے اپنی
اپنے دشمن کو فقط نیچا دکھانے کے لئے
کون جاتا ہے کسی تپتے ہوئے صحرا میں
اپنی تنہائی کا اک جشن منانے کے لئے
کوششیں جاری ہیں اس دور کی ہر دن اے لطیفؔ
جتنے جنگل ہیں انہیں شہر بنانے کے لئے