نہ کوئی خواب ہوگا اور نہ خوابوں کا جہاں ہوگا
نہ کوئی خواب ہوگا اور نہ خوابوں کا جہاں ہوگا
کوئی دل میں نہیں ہوگا تو دل خالی مکاں ہوگا
بہت ہی سوچ کر تو کشتیٔ عمر رواں کو ڈال
مقابل میں تلاطم خیز بحر بیکراں ہوگا
نہیں ہے دور وہ منظر جسے دیکھے گا یہ عالم
مسلماں اک طرف اور اک طرف سارا جہاں ہوگا
یہ دور پر فتن ہے بوجھ اپنا خود اٹھاؤ تم
تمہارا درد بانٹے گا نہ کوئی مہرباں ہوگا
رئیسوں اور لٹیروں کا زمانہ ہے غریبو تم
کبھی مت سوچنا تم پر زمانہ مہرباں ہوگا
چٹانوں کی طرح میں عزم رکھتا ہوں لطیفؔ اب کے
مجھے معلوم ہے ہر اک قدم پر امتحاں ہوگا