یار نے اس دل ناچیز کو بہتر جانا
یار نے اس دل ناچیز کو بہتر جانا داغ کو پھول تو قطرے کو سمندر جانا کٹ گئے دیکھتے ہی ہم تو تری چشم غضب جنبش ابروئے خم دار کو خنجر جانا سچ ہے یکساں ہے عدم اور وجود دنیا ایسے ہونے کو نہ ہونے کے برابر جانا آنکھ ہم بادہ کشوں سے نہ ملا اے جمشید اپنے چلو کو ترے جام سے بڑھ کر جانا کب ...