Lala Madhav Ram Jauhar

لالہ مادھو رام جوہر

  • 1810 - 1890

کئی ضرب المثل شعروں کے خالق، مرزا غالب کے ہم عصر

Contemporary of Mirza Ghalib, famous for many of his oft-quoted shers.

لالہ مادھو رام جوہر کی غزل

    دل کو کوسو جو چاہتا ہے

    دل کو کوسو جو چاہتا ہے میں نے کیا آپ کا لیا ہے کیا ہنستے ہو میرے رونے پر تم دل کا آنا بری بلا ہے جتنا چاہو جلاؤ ہم کو تم بھی کتنے ہو دیکھنا ہے معشوق منائیں تم کو جوہرؔ یہ بھی اک قدرت خدا ہے

    مزید پڑھیے

    حرم میں مدتوں ڈھونڈا شوالوں میں پھرا برسوں

    حرم میں مدتوں ڈھونڈا شوالوں میں پھرا برسوں تلاش یار میں بھٹکا کیا میں بارہا برسوں مہینوں ہاتھ جوڑے کی خوشامد بارہا برسوں انہیں جھگڑوں میں مجھ کو ہو گئے اے بے وفا برسوں معاذ اللہ اس آزردگی کا کیا ٹھکانہ ہے جو پوچھا یار سے کب تک نہ بولو گے کہا برسوں غنیمت جان جو دن زندگی کے عیش ...

    مزید پڑھیے

    اس کا مزاج پوچھو جو ہر وقت پاس ہے

    اس کا مزاج پوچھو جو ہر وقت پاس ہے اس کی بلا سے دل جو ہمارا اداس ہے پوشاک سے بدن کی تجلی ہے آشکار فانوس شمع طور تمہارا لباس ہے دل توڑ کر وہ نشہ میں کہتے ہیں ناز سے کس کام کا رہا ہے یہ ٹوٹا گلاس ہے فرمائیے مزاج مبارک ہے کس طرح کچھ خیر تو ہے کس لیے چہرہ اداس ہے مدت کے بعد آج تو تنہا ...

    مزید پڑھیے

    دل کو سمجھاؤ ذرا عشق میں کیا رکھا ہے

    دل کو سمجھاؤ ذرا عشق میں کیا رکھا ہے کس لیے آپ کو دیوانہ بنا رکھا ہے یہ تو معلوم ہے بیمار میں کیا رکھا ہے تیرے ملنے کی تمنا نے جلا رکھا ہے کون سا بادہ کش ایسا ہے کہ جس کی خاطر جام پہلے ہی سے ساقی نے اٹھا رکھا ہے اپنے ہی حال میں رہنے دے مجھے اے ہم دم تیری باتوں نے مرا دھیان بٹا ...

    مزید پڑھیے

    فریاد کرے کس سے گنہ گار تمہارا

    فریاد کرے کس سے گنہ گار تمہارا اللہ بھی حاکم بھی طرف دار تمہارا کعبہ کی تو کیا اصل ہے اس کوچے سے آگے جنت ہو تو جائے نہ گنہ گار تمہارا درد دل عاشق کی دوا کون کرے گا سنتے ہیں مسیحا بھی ہے بیمار تمہارا جوہرؔ تمہیں نفرت ہے بہت بادہ کشی سے برسات میں دیکھیں گے ہم انکار تمہارا

    مزید پڑھیے

    دل مرا خواب گاہ دلبر ہے

    دل مرا خواب گاہ دلبر ہے بس یہی ایک سونے کا گھر ہے زلفیں منہ پر ہیں منہ ہے زلفوں میں رات بھر صبح شام دن بھر ہے چشم انصاف سے نظارہ کر ایک قطرہ یہاں سمندر ہے بہت ایذا اٹھائی فرقت کی اب نہیں اختیار دل پر ہے دیکھ کر چاند سا تمہارا منہ آئینہ میری طرح ششدر ہے دل ملاؤں میں کیا ترے دل ...

    مزید پڑھیے

    کسی کو لاکھ الم ہو ذرا ملال نہیں

    کسی کو لاکھ الم ہو ذرا ملال نہیں کوئی مرے کہ جیے کچھ انہیں خیال نہیں یہ جانتا ہوں مگر کیا کروں طبیعت کو کہ مے حرام ہے اے واعظو حلال نہیں عبث غرور ہے منگوا کے آئنہ دیکھو وہ رنگ و روپ نہیں اب وہ سن و سال نہیں حضور آپ جو ہوتے تو کوئی کیوں بنتا یہ خوبی آپ کی ہے غیر کی مجال نہیں ادھر ...

    مزید پڑھیے

    کنج قفس سے پہلے گھر اپنا کہاں نہ تھا

    کنج قفس سے پہلے گھر اپنا کہاں نہ تھا آئے یہاں تو حوصلۂ آشیاں نہ تھا تجھ کو سمجھ کے خواب میں پہنچا میں جس جگہ دیکھا جو آنکھ کھول کے تو کچھ وہاں نہ تھا اک اک قدم پہ اب تو قیامت کی دھوم ہے آگے تو یہ چلن کبھی اے جان جاں نہ تھا ٹھہری جو وصل کی تو ہوئی صبح شام سے بت مہرباں ہوئے تو خدا ...

    مزید پڑھیے

    بوئے گل سونگھ کر بگڑتے ہیں

    بوئے گل سونگھ کر بگڑتے ہیں یہ پری رو ہوا سے لڑتے ہیں کیوں جوانی کے پیچھے پڑتے ہیں بھاگتے کو نہیں پکڑتے ہیں ایک دن وہ زمین دیکھیں گے اے فلک آج کو اکڑتے ہیں مل رہے ہیں وہ اپنے گھر مہندی ہم یہاں ایڑیاں رگڑتے ہیں نامہ بر ناامید آتا ہے ہائے کیا سست پاؤں پڑتے ہیں جس کے ہیں اس کے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    تھے نوالے موتیوں کے جن کے کھانے کے لیے

    تھے نوالے موتیوں کے جن کے کھانے کے لیے پھرتے ہیں محتاج وہ اک دانے دانے کے لیے شمع جلواتے ہیں غیروں سے وہ میری قبر پر یہ نئی صورت نکالی ہے جلانے کے لیے دیر جاتا ہوں کبھی کعبہ کبھی سوئے کنشت ہر طرف پھرتا ہوں تیرے آستانے کے لیے ہاتھ میں لے کر گلوری مجھ کو دکھلا کر کہا منہ تو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4