کیسا ہی دوست ہو نہ کہے راز دل کوئی (ردیف .. ن)
کیسا ہی دوست ہو نہ کہے راز دل کوئی نکلی جو بات منہ سے تو پھیلی جہان میں سچ سچ کہو یہ بات بنانا نہیں پسند کیا کہہ رہے تھے غیر ابھی چپکے سے کان میں پوچھا ہے حال زار تو سن لو خطا معاف کچھ بات میرے ہونٹوں میں ہے کچھ زبان میں عاشق سے پوچھیے نہ سر بزم حال دل پردے کی بات سنتے ہیں چپکے سے ...