Lala Madhav Ram Jauhar

لالہ مادھو رام جوہر

  • 1810 - 1890

کئی ضرب المثل شعروں کے خالق، مرزا غالب کے ہم عصر

Contemporary of Mirza Ghalib, famous for many of his oft-quoted shers.

لالہ مادھو رام جوہر کی غزل

    کیسا ہی دوست ہو نہ کہے راز دل کوئی (ردیف .. ن)

    کیسا ہی دوست ہو نہ کہے راز دل کوئی نکلی جو بات منہ سے تو پھیلی جہان میں سچ سچ کہو یہ بات بنانا نہیں پسند کیا کہہ رہے تھے غیر ابھی چپکے سے کان میں پوچھا ہے حال زار تو سن لو خطا معاف کچھ بات میرے ہونٹوں میں ہے کچھ زبان میں عاشق سے پوچھیے نہ سر بزم حال دل پردے کی بات سنتے ہیں چپکے سے ...

    مزید پڑھیے

    برسات کا مزا ترے گیسو دکھا گئے

    برسات کا مزا ترے گیسو دکھا گئے عکس آسمان پر جو پڑا ابر چھا گئے آئے کبھی تو سیکڑوں باتیں سنا گئے قربان ایسے آنے کے کیا آئے کیا گئے سن پائی میری آبلہ پائی کی جب خبر چاروں طرف وہ راہ میں کانٹے بچھا گئے ہم وہ نہیں سنیں جو برائی حضور کی یہ آپ تھے جو غیر کی باتوں میں آ گئے میں نے جو ...

    مزید پڑھیے

    تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کا

    تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کا دیکھا ہے آج آنکھوں سے لکھا نصیب کا ہم مے کشوں نے نشہ میں ایسے کیے سوال دم بند کر دیا سر منبر خطیب کا صیاد گھات میں ہے کہیں باغباں کہیں سارا چمن ہے دشمن جاں عندلیب کا اپنی زبان سے مجھے جو چاہے کہہ لیں آپ بڑھ بڑھ کے بولنا نہیں اچھا رقیب ...

    مزید پڑھیے

    تیرے کوچے کی ہوا لگ گئی شاید اس کو (ردیف .. ے)

    تیرے کوچے کی ہوا لگ گئی شاید اس کو روز بے پر کی اڑاتا ہے کبوتر ہم سے ہم سلیمان بنیں گے جو پری ہو گے تم ہوش میں آؤ کہاں جاؤ گے اڑ کر ہم سے گالیاں کون سنے جب نہ رہا کچھ مطلب آج سے کیجئے گا بات سمجھ کر ہم سے ہم کسی اور کو تاکیں گے تمہارے ہوتے کیا کہا پھر تو کہو آنکھ ملا کر ہم سے آپ ہو ...

    مزید پڑھیے

    ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیں

    ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیں غریبوں پر ستم کیا کیا ستم ایجاد کرتے ہیں ہزاروں دل جلا کر غیر کا دل شاد کرتے ہیں مٹا کر سیکڑوں شہر ایک گھر آباد کرتے ہیں موذن کو بھی وہ سنتے نہیں ناقوس تو کیا ہے عبث شیخ و برہمن ہر طرف فریاد کرتے ہیں حسینوں کی محبت کا نہ کر کچھ اعتبار اے ...

    مزید پڑھیے

    کہا مانو محبت میں ضرر ہے

    کہا مانو محبت میں ضرر ہے طبیعت کو سنبھالو دل کدھر ہے خدا جانے کہا غیروں سے کیا آج نہ وہ دل ہے نہ وہ ان کی نظر ہے عجب منزل پہ مجھ کو عشق لایا نہ رستا ہے نہ کوئی راہ بر ہے وہ کاہے کو یہاں آئیں گے اے دل یوں ہی کہتے ہیں سب جھوٹی خبر ہے نہ آؤ اس طرف اے حضرت عشق چلے جاؤ غریبوں کا یہ گھر ...

    مزید پڑھیے

    یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں

    یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں کہیں چڑھ کر شراب عشق کے نشے اترتے ہیں خدا سمجھے یہ کیا صیاد و گلچیں ظلم کرتے ہیں گلوں کو توڑتے ہیں بلبلوں کے پر کترتے ہیں دیا دم نزع میں گو آپ نے پر روح چل نکلی کسی کے روکنے سے جانے والے کب ٹھہرتے ہیں ذرا رہنے دو اپنے در پہ ہم خانہ ...

    مزید پڑھیے

    دیں جسے چاہیں دل ہمارا ہے

    دیں جسے چاہیں دل ہمارا ہے اس میں کیا آپ کا اجارا ہے بہکی بہکی جو کرتے ہو تقریر سچ کہو دل کہاں تمہارا ہے جان دیتے ہیں صبر کرتے ہیں واہ کیا حوصلہ ہمارا ہے سینے سے لپٹو یا گلا کاٹو ہم تمہارے ہیں دل تمہارا ہے پانی تلوار کا نہ پینے دیا سوکھے گھاٹ آپ نے اتارا ہے

    مزید پڑھیے

    نوبت گریہ و بے تابی و زاری آئی

    نوبت گریہ و بے تابی و زاری آئی بڑے ہنگامے سے کل یاد تمہاری آئی نزع میں بھی وہ یہاں تک نہیں آنے دیتا اے خدا غیر کو آ جائے ہماری آئی ان کو تشبیہ مسیحا سے جو دی وہ بولے آج معلوم ہوا موت تمہاری آئی کس طرف آئے کدھر بھول پڑے خیر تو ہے آج کیا تھا جو تمہیں یاد ہماری آئی نالۂ بلبل شیدا ...

    مزید پڑھیے

    ہم نہ چھوڑیں گے محبت تری اے زلف سیاہ (ردیف .. و)

    ہم نہ چھوڑیں گے محبت تری اے زلف سیاہ سر چڑھایا ہے تو کیا دل سے گرائیں تجھ کو چھوڑ کر ہم کو ملا شمع رخوں سے جا کر اسی قابل ہے تو اے دل کہ جلائیں تجھ کو درد دل کہتے ہوئے بزم میں آتا ہے حجاب تخلیہ ہو تو کچھ احوال سنائیں تجھ کو اپنے معشوق کی سنتا ہے برائی کوئی کیوں نہ ہم بگڑیں جو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4