پیاسے ہونٹوں سے جب کوئی جھیل نہ بولی بابو جی
پیاسے ہونٹوں سے جب کوئی جھیل نہ بولی بابو جی ہم نے اپنے ہی آنسو سے آنکھ بھگو لی بابو جی پھر کوئی کالا سپنا تھا پلکوں کے دروازوں پر ہم نے یوں ہی ڈر کے مارے آنکھ نہ کھولی بابو جی بھولے سے جانے انجانے وار نہ کرنا تم ان پر جن جن کے کندھوں پر ہے یہ پریت کی ڈولی بابو جی یہ مت پوچھو اس ...