Krishna Mohan

کرشن موہن

کرشن موہن کی غزل

    وہ کیا زندگی جس میں جوشش نہیں

    وہ کیا زندگی جس میں جوشش نہیں وہ کیا آرزو جس میں کاوش نہیں جنوں آئنہ دار سوز دروں جنوں پر خوشی کی نوازش نہیں مقدر کا مرہون منت ہے یہ ترا مرتبہ وجہ نازش نہیں حقیقت کا عکاس میرا کلام تصنع نہیں اس میں کوشش نہیں یہ اظہار سادہ ہے جذبات کا کمال ہنر کی نمائش نہیں زمانے سے ہوں بے ...

    مزید پڑھیے

    مکاں اندر سے خستہ ہو گیا ہے

    مکاں اندر سے خستہ ہو گیا ہے اور اس میں ایک رستہ ہو گیا ہے انہیں منظور کرنا ہی پڑے گا عریضہ دست بستہ ہو گیا ہے سیاسی رہنماؤں کی بدولت ہمارا خون سستا ہو گیا ہے کمان جسم ہے موجود لیکن شباب اک تیر جستہ ہو گیا ہے زبوں ہے اس قدر دنیا کی حالت ہمارا غم بھی خستہ ہو گیا ہے شکستہ اور ...

    مزید پڑھیے

    آرزو تدبیر ہو کر رہ گئی

    آرزو تدبیر ہو کر رہ گئی جستجو تاخیر ہو کر رہ گئی سرد سناٹا مسلط ہو گیا بے حسی زنجیر ہو کر رہ گئی سوچ کی آواز کتنی تیز ہے خامشی تقریر ہو کر رہ گئی جب بھی کی تحریر اپنی داستاں تیری ہی تصویر ہو کر رہ گئی کاٹ ہے الفاظ کی کتنی شدید گفتگو شمشیر ہو کر رہ گئی آہ یہ دن رین کی بے چین ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2