Krishn Bihari Noor

کرشن بہاری نور

مقبول عام شاعر، لکھنوی زبان و تہذیب کے نمائندے

Popular poet, a fine exponet of the language and culture of Lucknow.

کرشن بہاری نور کی غزل

    کسی سے راز محبت نہ آشکار کیا

    کسی سے راز محبت نہ آشکار کیا تری نظر کے بدلنے تک انتظار کیا نہ کوئی وعدہ تھا ان سے نہ کوئی پابندی تمام عمر مگر ان کا انتظار کیا ٹھہر کے مجھ پہ ہی اہل چمن کی نظروں نے مرے جنون سے انداز بہار کیا سحر کے ڈوبتے تارو گواہ رہنا تم کہ میں نے آخری سانسوں تک انتظار کیا جہاں سے تیری توجہ ...

    مزید پڑھیے

    نظر ملا نہ سکے اس سے اس نگاہ کے بعد

    نظر ملا نہ سکے اس سے اس نگاہ کے بعد وہی ہے حال ہمارا جو ہو گناہ کے بعد میں کیسے اور کس سمت موڑتا خود کو کسی کی چاہ نہ تھی دل میں تیری چاہ کے بعد ہوس نے توڑ دی برسوں کی سادھنا میری گناہ کیا ہے یہ جانا مگر گناہ کے بعد ضمیر کانپ تو جاتا ہے آپ کچھ بھی کہیں وہ ہو گناہ سے پہلے کہ ہو گناہ ...

    مزید پڑھیے

    رک گیا آنکھ سے بہتا ہوا دریا کیسے

    رک گیا آنکھ سے بہتا ہوا دریا کیسے غم کا طوفاں تو بہت تیز تھا ٹھہرا کیسے ہر گھڑی تیرے خیالوں میں گھرا رہتا ہوں ملنا چاہوں تو ملوں خود سے میں تنہا کیسے مجھ سے جب ترک تعلق کا کیا عہد تو پھر مڑ کے میری ہی طرف آپ نے دیکھا کیسے مجھ کو خود پر بھی بھروسا نہیں ہونے پاتا لوگ کر لیتے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    جاگتی حقیقت تک راستہ ہے خوابوں کا

    جاگتی حقیقت تک راستہ ہے خوابوں کا درمیاں مرے ان کے فاصلہ ہے خوابوں کا ایک شب کے ٹکڑوں کے نام مختلف رکھے جسم و روح کا بندھن سلسلہ ہے خوابوں کا دیکھیں اس کشاکش کا اختتام ہو کب تک جاگنے کی خواہش ہے حوصلہ ہے خوابوں کا اپنی اپنی تعبیریں ڈھونڈھتا ہے ہر چہرہ چہرہ چہرہ پڑھ لیجے تذکرہ ...

    مزید پڑھیے

    تمام جسم ہی گھائل تھا گھاؤ ایسا تھا

    تمام جسم ہی گھائل تھا گھاؤ ایسا تھا کوئی نہ جان سکا رکھ رکھاؤ کیسا تھا بس اک کہانی ہوئی یہ پڑاؤ ایسا تھا مری چتا کا بھی منظر الاؤ ایسا تھا وہ ہم کو دیکھتا رہتا تھا ہم ترستے تھے ہماری چھت سے وہاں تک دکھاؤ ایسا تھا کچھ ایسی سانسیں بھی لینا پڑیں جو بوجھل تھیں ہوا کا چاروں طرف سے ...

    مزید پڑھیے

    تیز ہو جاتا ہے خوشبو کا سفر شام کے بعد

    تیز ہو جاتا ہے خوشبو کا سفر شام کے بعد پھول شہروں میں بھی کھلتے ہیں مگر شام کے بعد اس سے دریافت نہ کرنا کبھی دن کے حالات صبح کا بھولا جو لوٹ آیا ہو گھر شام کے بعد دن ترے ہجر میں کٹ جاتا ہے جیسے تیسے مجھ سے رہتی ہے خفا میری نظر شام کے بعد قد سے بڑھ جائے جو سایہ تو برا لگتا ہے اپنا ...

    مزید پڑھیے

    زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں

    زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں اور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں اتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں میں میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں زندگی موت تیری منزل ہے دوسرا کوئی رستہ ہی نہیں سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں زندگی اب بتا کہاں جائیں زہر بازار میں ملا ہی نہیں جس کے کارن ...

    مزید پڑھیے

    خموشیوں میں سدا سے لکھا ہوا اک نام

    خموشیوں میں سدا سے لکھا ہوا اک نام سنو ہے دست دعا سے لکھا ہوا اک نام ہر اک کی اپنی زباں ہے نہ پڑھ سکے گا بشر زمیں پہ آب و ہوا سے لکھا ہوا اک نام جو سن سکو تو سنو خوشبوؤں کے لب پر ہے گلوں پہ باد صبا سے لکھا ہوا اک نام چمکتا رہتا ہے جب تک کریدی جائے نہ راکھ چتا پہ دست فنا سے لکھا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    بس ایک وقت کا خنجر مری تلاش میں ہے

    بس ایک وقت کا خنجر مری تلاش میں ہے جو روز بھیس بدل کر مری تلاش میں ہے ادھورے خوابوں سے اکتا کے جس کو چھوڑ دیا شکن نصیب وہ بستر مری تلاش میں ہے عزیز ہوں میں تجھے کس قدر کہ ہر اک غم تری نگاہ بچا کر مری تلاش میں ہے میں ایک قطرہ ہوں میرا الگ وجود تو ہے ہوا کرے جو سمندر مری تلاش میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3