Krishn Bihari Noor

کرشن بہاری نور

مقبول عام شاعر، لکھنوی زبان و تہذیب کے نمائندے

Popular poet, a fine exponet of the language and culture of Lucknow.

کرشن بہاری نور کی غزل

    بچھڑ کے تجھ سے نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں

    بچھڑ کے تجھ سے نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں عجیب طرح کے بس حادثے گزرتے ہیں زمین چھوڑ نہ پاؤں گا انتظار یہ ہے وہ آسمان سے دھرتی پہ کب اترتے ہیں یہ کس نے کھینچ دی سانسوں کی لکشمن ریکھا کہ جسم جلتا ہے باہر جو پاؤں دھرتے ہیں یہ چاند تارے زمیں اور آفتاب تمام طواف کرتے ہیں کس کا طواف ...

    مزید پڑھیے

    دینا ہے تو نگاہ کو ایسی رسائی دے

    دینا ہے تو نگاہ کو ایسی رسائی دے میں دیکھتا ہوں آئنہ تو مجھے تو دکھائی دے کاش ایسا تال میل سکوت و صدا میں ہو اس کو پکاروں میں تو اسی کو سنائی دے اے کاش اس مقام پہ پہنچا دے اس کا پیار وہ کامیاب ہونے پہ مجھ کو بدھائی دے مجرم ہے سوچ سوچ گنہ گار سانس سانس کوئی صفائی دے تو کہاں تک ...

    مزید پڑھیے

    دکھائی دے نہ کبھی یہ تو ممکنات میں ہے

    دکھائی دے نہ کبھی یہ تو ممکنات میں ہے وہ سب وجود میں ہے جو تصورات میں ہے میں جس ہنر سے ہوں پوشیدہ اپنی غزلوں میں اسی طرح وہ چھپا ساری کائنات میں ہے کہ جیسے جسم کی رگ رگ میں دوڑتا ہے لہو اسی طرح وہ رواں عرصۂ حیات میں ہے کہ جیسے سنگ کے سینے میں کوئی بت ہے نہاں اسی طرح کوئی صورت ...

    مزید پڑھیے

    وہ لب کہ جیسے ساغر صہبا دکھائی دے

    وہ لب کہ جیسے ساغر صہبا دکھائی دے جنبش جو ہو تو جام چھلکتا دکھائی دے دریا میں یوں تو ہوتے ہیں قطرے ہی قطرے سب قطرہ وہی ہے جس میں کہ دریا دکھائی دے کیوں آئینہ کہیں اسے پتھر نہ کیوں کہیں جس آئینے میں عکس نہ اس کا دکھائی دے اس تشنہ لب کے نیند نہ ٹوٹے دعا کرو جس تشنہ لب کو خواب میں ...

    مزید پڑھیے

    یارو گھر آئی شام چلو میکدے چلیں

    یارو گھر آئی شام چلو میکدے چلیں یاد آ رہے ہیں جام چلو میکدے چلیں دیر و حرم پہ کھل کے جہاں بات ہو سکے ہے ایک ہی مکان چلو میکدے چلیں اچھا نہیں پئیں گے جو پینا حرام ہے جینا نہ ہو حرام چلو میکدے چلیں یارو جو ہوگا دیکھیں گے غم سے تو ہو نجات لے کر خدا کا نام چلو میکدے چلیں ساقی بھی ہے ...

    مزید پڑھیے

    آگ ہے پانی ہے مٹی ہے ہوا ہے مجھ میں

    آگ ہے پانی ہے مٹی ہے ہوا ہے مجھ میں اور پھر ماننا پڑتا ہے خدا ہے مجھ میں اب تو لے دے کے وہی شخص بچا ہے مجھ میں مجھ کو مجھ سے جو جدا کر کے چھپا ہے مجھ میں جتنے موسم ہیں سبھی جیسے کہیں مل جائیں ان دنوں کیسے بتاؤں جو فضا ہے مجھ میں آئنہ یہ تو بتاتا ہے میں کیا ہوں لیکن آئنہ اس پہ ہے ...

    مزید پڑھیے

    کبھی جنوں تو کبھی آگہی کی قید میں ہوں

    کبھی جنوں تو کبھی آگہی کی قید میں ہوں میں اپنے ذہن کی آوارگی کی قید میں ہوں شراب میرے لبوں کو ترس رہی ہوگی میں رند تو ہوں مگر تشنگی کی قید میں ہوں نہ کوئی سمت نہ جادہ نہ منزل مقصود یگوں یگوں سے یوں ہی بے رخی کی قید میں ہوں کسی کے رخ سے جو پردہ اٹھا دیا میں نے سزا یہ پائی کی ...

    مزید پڑھیے

    اپنا پتہ نہ اپنی خبر چھوڑ جاؤں گا

    اپنا پتہ نہ اپنی خبر چھوڑ جاؤں گا بے سمتیوں کی گرد سفر چھوڑ جاؤں گا تجھ سے اگر بچھڑ بھی گیا میں تو یاد رکھ چہرے پہ تیرے اپنی نظر چھوڑ جاؤں گا غم دوریوں کا دور نہ ہو پائے گا کبھی وہ اپنی قربتوں کا اثر چھوڑ جاؤں گا گزرے گی رات رات مرے ہی خیال میں تیرے لیے میں صرف سحر چھوڑ جاؤں ...

    مزید پڑھیے

    پلکوں کی اوٹ میں وہ چھپا لے گیا مجھے

    پلکوں کی اوٹ میں وہ چھپا لے گیا مجھے یعنی نظر نظر سے بچا لے گیا مجھے اب اس کو اپنی ہار کہوں یا کہوں میں جیت روٹھا ہوا تھا میں وہ منا لے گیا مجھے مدت سے ایک رات بھی اپنی نہیں ہوئی ہر شام کوئی آیا اٹھا لے گیا مجھے ہو واپسی اگر تو انہیں راستوں سے ہو جن راستوں سے پیار ترا لے گیا ...

    مزید پڑھیے

    بس ایک وقت کا خنجر مری تلاش میں ہے

    بس ایک وقت کا خنجر مری تلاش میں ہے جو روز بھیس بدل کر مری تلاش میں ہے یہ اور بات کہ پہچانتا نہیں ہے مجھے سنا ہے ایک ستم گر مری تلاش میں ہے ادھورے خوابوں سے اکتا کے جس کو چھوڑ دیا شکن نصیب وہ بستر مری تلاش میں ہے یہ میرے گھر کی اداسی ہے اور کچھ بھی نہیں دیا جلائے جو در پر مری تلاش ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3