Krishn Bihari Noor

کرشن بہاری نور

مقبول عام شاعر، لکھنوی زبان و تہذیب کے نمائندے

Popular poet, a fine exponet of the language and culture of Lucknow.

کرشن بہاری نور کی غزل

    لفظوں کے یہ نگینے تو نکلے کمال کے

    لفظوں کے یہ نگینے تو نکلے کمال کے غزلوں نے خود پہن لیے زیور خیال کے ایسا نہ ہو گناہ کی دلدل میں جا پھنسوں اے میری آرزو مجھے لے چل سنبھال کے پچھلے جنم کی گاڑھی کمائی ہے زندگی سودا جو کرنا کرنا بہت دیکھ بھال کے موسم ہیں دو ہی عشق کے صورت کوئی بھی ہو ہیں اس کے پاس آئنے ہجر و وصال ...

    مزید پڑھیے

    اس کی دھن میں ہر طرف بھاگا کیا دوڑا کیا

    اس کی دھن میں ہر طرف بھاگا کیا دوڑا کیا ایک بوند امرت کی خاطر میں سمندر پی گیا اک طرف قانون ہے اور اک طرف انسان ہے ختم ہوتا ہی نہیں جرم و سزا کا سلسلہ اول و آخر کے کچھ اوراق ملتے ہی نہیں ہے کتاب زندگی بے ابتدا بے انتہا پھول میں رنگت بھی تھی خوشبو بھی تھی اور حسن بھی اس نے آوازیں ...

    مزید پڑھیے

    لاکھ غم سینے سے لپٹے رہے ناگن کی طرح

    لاکھ غم سینے سے لپٹے رہے ناگن کی طرح پیار سچا تھا مہکتا رہا چندن کی طرح تجھ کو پہچان لیا ہے تجھے پا بھی لوں گا اک جنم اور ملے گر اسی جیون کی طرح اب کوئی کیسے پہنچ پائے گا تیرے غم تک مسکراہٹ کی ردا ڈال دی چلمن کی طرح کوئی تحریر نہیں ہے جسے پڑھ لے کوئی زندگی ہو گئی بے نام سی الجھن ...

    مزید پڑھیے

    اپنی پلکوں سے اس کے اشارے اٹھا

    اپنی پلکوں سے اس کے اشارے اٹھا اس کی انگلیوں سے اشارے اٹھا ایسا لگتا ہے دہرا رہا ہوں میں کچھ زندگی کے پرانے شمارے اٹھا روشنی کا وہ کیسا عجب شور تھا اس کنارے ہوا اس کنارے اٹھا آخری ہے سفر وہ سبک سر چلے اس کے دامن سے اپنے ستارے اٹھا آنکھ کی اس بدن پر لکیریں کھنچیں ہر غزل سے نئے ...

    مزید پڑھیے

    اک غزل اس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت

    اک غزل اس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت ان دنوں خود سے بچھڑ جانے کا دھڑکا ہے بہت رات ہو دن ہو کہ غفلت ہو کہ بیداری ہو اس کو دیکھا تو نہیں ہے اسے سوچا ہے بہت تشنگی کے بھی مقامات ہیں کیا کیا یعنی کبھی دریا نہیں کافی کبھی قطرہ ہے بہت مرے ہاتھوں کی لکیروں کے اضافے ہیں گواہ میں نے پتھر ...

    مزید پڑھیے

    جبیں کو در پہ جھکانا ہی بندگی تو نہیں

    جبیں کو در پہ جھکانا ہی بندگی تو نہیں یہ دیکھ میری محبت میں کچھ کمی تو نہیں ہزار غم سہی دل میں مگر خوشی یہ ہے ہمارے ہونٹوں پہ مانگی ہوئی ہنسی تو نہیں مٹے یہ شبہ تو اے دوست تجھ سے بات کریں ہماری پہلی ملاقات آخری تو نہیں ہوئی جو جشن بہاراں کے نام سے منسوب یہ آشیانوں کے جلنے کی ...

    مزید پڑھیے

    یوں دعوت‌ شباب نہ دو میں نشے میں ہوں

    یوں دعوت‌ شباب نہ دو میں نشے میں ہوں یہ دوسری شراب نہ دو میں نشے میں ہوں ایسا نہ ہو کہ نشے میں کٹ جائے زندگی آنکھوں کو کوئی خواب نہ دو میں نشے میں ہوں اتنا بہت ہے تم سے نگاہیں ملی رہیں اب بس کرو شراب نہ دو میں نشے میں ہوں یارو دل و دماغ میں کافی ہے فاصلہ الجھے ہوئے جواب نہ دو میں ...

    مزید پڑھیے

    ہو کے بے چین میں بھاگا کیا آہو کی طرح

    ہو کے بے چین میں بھاگا کیا آہو کی طرح بس گیا تھا مرے اندر کوئی خوشبو کی طرح کوئی سایہ نہ ملا سایۂ گیسو کی طرح سارے جیون کی تھکن اتری ہے جادو کی طرح میری آواز تجھے چھو لے بس اتنی مہلت تیرے کوچے سے گزر جاؤں گا سادھو کی طرح وہ جو آ جائے تو کیا ہوش کا عالم ہوگا جس کے آنے کی خبر پھیلی ...

    مزید پڑھیے

    یہ لمحہ زیست کا ہے بس آخری ہے اور میں ہوں

    یہ لمحہ زیست کا ہے بس آخری ہے اور میں ہوں ہر ایک سمت سے اب واپسی ہے اور میں ہوں حیات جیسے ٹھہر سی گئی ہو یہ ہی نہیں تمام بیتی ہوئی زندگی ہے اور میں ہوں میں اپنے جسم سے باہر ہوں اور ہوش بھی ہے زمیں پہ سامنے اک اجنبی ہے اور میں ہوں وہ کوئی خواب ہو چاہے خیال یا سچ ہو فضا میں اڑتی ...

    مزید پڑھیے

    جس کا کوئی بھی نہیں اس کا خدا ہے یارو

    جس کا کوئی بھی نہیں اس کا خدا ہے یارو میں نہیں کہتا کتابوں میں لکھا ہے یارو مڑ کے دیکھوں تو کدھر اور صدا دوں تو کسے میرے ماضی نے مجھے چھوڑ دیا ہے یارو اس سزا سے تو مرا جی ہی نہیں بھرتا ہے زندگی کیسے گناہوں کی سزا ہے یارو شب ہے اس وقت کوئی گھر نہ کھلا پاؤ گے آؤ مے خانہ کا دروازہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3