Khwaja Saeeduddin Nawab

خواجہ سعید الدین نواب

  • 1976

خواجہ سعید الدین نواب کی غزل

    پڑھا ہے ہم نے سبق ہر گھڑی صداقت کا

    پڑھا ہے ہم نے سبق ہر گھڑی صداقت کا اسی لیے تو یہ ہم پر اثر ہے رحمت کا میں سچ کو جھوٹ کی بوتل میں بند کر لوں گا مرے گلے میں بھی تعویذ ہے سیاست کا مری نگاہ بھلا کیوں نہ ہو مقدس تر میں روز کرتا ہوں دیدار اپنی جنت کا میں بچ گیا ہوں مرا نام غازیوں میں لکھو ارادہ کر کے تو نکلا تھا میں ...

    مزید پڑھیے

    کبھی نفرت کے لہجے سے محبت کانپ جاتی ہے

    کبھی نفرت کے لہجے سے محبت کانپ جاتی ہے مخالف کوئی اپنا ہو تو ہمت کانپ جاتی ہے سنا ہے قاتلوں کے خوف سے منصف لرزتے ہیں سزا ان کو سنانے کو عدالت کانپ جاتی ہے بہادر باغیوں کے حوصلوں سے کچھ نہیں ہوتا اگر سردار بزدل ہو بغاوت کانپ جاتی ہے ہمارے حوصلوں کو تو نظر انداز مت کرنا یہ وہ ...

    مزید پڑھیے

    وہ بات بات میں ایسے نشان چھوڑ گیا

    وہ بات بات میں ایسے نشان چھوڑ گیا سلگتے دل کو چتا کے سمان چھوڑ گیا نہ جانے کون سی دھن میں تھا قاتلوں کا ہجوم تڑپتے جسموں میں تھوڑی سی جان چھوڑ گیا جسے میں اپنے مسائل کا حل سمجھتا تھا وہ جب گیا تو بہت امتحان چھوڑ گیا ہمارا راز تری بزم تک گیا کیسے ہے کون جو پس دیوار کان چھوڑ ...

    مزید پڑھیے

    وہ کم شعور ہے پھر بھی کمال کرتا ہے

    وہ کم شعور ہے پھر بھی کمال کرتا ہے ہمارے لفظوں میں ہم سے سوال کرتا ہے کرم کسی کا سنبھالے ہوئے ہے راہوں میں یہ خار زار وگرنہ نڈھال کرتا ہے اسی کے سر رہا الزام فتنہ سازی کا جو امن رت میں خلل کو بحال کرتا ہے وہ پتھروں میں بھی دیتا ہے رزق کیڑوں کو کمال والا ہے وہ ہر کمال کرتا ...

    مزید پڑھیے