وہ کم شعور ہے پھر بھی کمال کرتا ہے

وہ کم شعور ہے پھر بھی کمال کرتا ہے
ہمارے لفظوں میں ہم سے سوال کرتا ہے


کرم کسی کا سنبھالے ہوئے ہے راہوں میں
یہ خار زار وگرنہ نڈھال کرتا ہے


اسی کے سر رہا الزام فتنہ سازی کا
جو امن رت میں خلل کو بحال کرتا ہے


وہ پتھروں میں بھی دیتا ہے رزق کیڑوں کو
کمال والا ہے وہ ہر کمال کرتا ہے


مؤذنوں کے لبوں سے اذان سنتے ہی
پرندہ حمد و ثنا ڈال ڈال کرتا ہے


نوابؔ کے کوئی طرز سخن پہ غور کرے
ہر ایک شعر میں خود سے مقال کرتا ہے